پنکی کیس میں نائیجیرین ہینڈلر سمیت 14 سپلائی رائیڈرز کی گرفتاری کا انکشاف
فوٹو: فائل
سندھ پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار انمول عرف پنکی کے کیس کے حوالے سے ایک نائیجیرین ہینڈلر اور 13 سپلائی والے رائیڈرز کو گرفتار کیا گیا ہے اور پنکی کی کوکین فیکٹری لاہور میں ہے۔
سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرپرسن فریال تالپور کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں وزیر داخلہ، وزیر ایکسائز نارکوٹکس، اراکین کمیٹی برائے داخلہ، آئی جی سندھ ایڈشنل آئی جی کراچی، اے این ایف سمیت ودیگر حکام شریک ہوئے۔
سندھ پولیس نے قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو بریفنگ میں بتایا کہ انمول عرف پنکی کا نائیجیریا آنا جانا ہوتا تھا، ان کا نائیجیرین ہینڈلر کو لاہور سے گرفتار کرلیا گیا ہے اور انمول عرف پنکی کی کوکین کی فیکٹری لاہور میں تھی، میڈیا میں خبریں چل رہی ہیں کہ پنکی کو لاہور سے گرفتار کیا گیا ہے اور پنکی کے 13 سپلائی والے رائیڈرز کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
سندھ پولیس نے اجلاس میں اس معاملے پر کسی بھی اہم شخصیت کا نام سے انکار کر دیا جبکہ اپوزیشن کے اراکین نے پنکی کیس میں اہم شخصیات کے ملوث ہونے کے نام پبلک کرنے کا مطالبہ کردیا، جس پر وزیر داخلہ ضیا لنجار نے بتایا کہ ابھی کسی کا نام لینا قبل از وقت ہوگا، اس معاملے پر تفتیش جاری ہے۔
اجلاس میں رکن قومی اسمبلی قادر پٹیل نے اہم قانونی نکتے پر اظہار خیال کیا کہ قانون میں لکھا ہے کہ ایسی کوئی چیز جس میں چونا، چھالیہ اور تمباکو شامل ہو وہ گٹکے میں شمار ہوتا ہے، اس حساب سے تو پان اور نسوار بھی اس میں شامل ہوگئے ہیں، قانون میں چونے کے لفظ کو واضح استعمال نہیں کیا "لائم" لکھا گیا ہے، لائم کا مطلب حلیم پر لیموں نچوڑنے والا بھی پکڑا جائے گا، لفظ لائم اسٹون ہونا چاہیے، جس پر وزیر داخلہ نے قانون میں درست لفظ کے اندراج کی یقین دہانی کرادی۔
فریال تالپور نے ڈی آئی جی سکھر سے قمبر شہداد کوٹ اور دادو میں افیون کی کاشت سے متعلق سوال کیا کہ ڈی آئی جی ناصر آفتاب نے بتایا کہ ان علاقوں میں جانا مشکل ہے تاہم ڈرون کے ذریعے اسپرے کررہے ہیں، رکن قومی اسمبلی نبیل گبول نے ضلع ایسٹ مین لڑکی کی گرفتاری سے متعلق نشان دہی کی۔
فریال تالپور نے ہدایت کی کہ اگر لڑکی کسی جرم میں گرفتار ہوئی ہے تو دیکھیں ورنہ فوری رہا کریں۔
رکن قومی اسمبلی آ غا رفیع اللہ نے کہا کہ ملیر کراچی کا سب سے بڑا ضلع ہے، نفری بہت کم اور وسائل کم ہیں، اس پر وزیر داخلہ نے کہا کہ بجٹ میں تھانوں کی تعداد بڑھانے اور وسائل بڑھانے کی کوشش کریں گے۔
فریال تالپور نے کہا کہ منشیات کے خلاف کارروائی اور تیز کریں کہیں ایسا نہ ہو یہ چیزیں آپ کے گھروں تک پہنچیں۔
قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس کے بعد صوبائی وزیر ضیا الحسن لنجار نے میڈیا کو بتایا کہ اجلاس میں منشیات کے معاملے پر گفتگو ہوئی اور پولیس نے بریفننگ دی اور انمول عرف پنکی پر زیادہ بات نہیں ہوئی۔
ضیا الحسن لنجار نے بتایا کہ حکومت سندھ نے نارکوٹکس فورس بنانے کا فیصلہ کیا ہے، نارکوٹکس محکمہ اور پولیس مل کر منشیات کے خلاف کام کرے گی۔
انہوں نے بتایا کہ نارکوٹکس محکمے کے حوالے سے پولیس کو بھی اختیارات دینے پر بات کی گئی، پنکی پر 28 کیس ہیں، 12 بارہ سندھ کے، ایک اے این ایف اور پانچ پنچاب کے کیس ہیں، پنکی کیس میں ملوث عناصر کو نہیں چھوڑا جائے گا۔
ضیا الحسن لنجار نے بتایا کہ فریال تالپور کے منشیات کے حوالے بہت سخت احکامات ہیں، تعلیمی اداروں کے حوالے سے اعلی سطح کی اختیاراتی کمیٹی بنا رہےہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ بجٹ میں ڈورنز کی خریداری کے لیے علیحدہ بجٹ رکھنے کی تجویز ہے، آئندہ بجٹ میں محکمہ داخلہ کے ماتحت ڈورون فورس بنائی جائے گی۔