ایران جنگ پر من چاہے اختیارات نہ ملنے پر ٹرمپ اراکین اسمبلی پر برہم؛ ملک دشمن قرار
صدر ٹرمپ نے ان کے حق میں ووٹ نہ دینے والے ارکان کو ملک دشمن قرار دیدیا
صدر ٹرمپ نے امریکی ایوانِ نمائندگان میں ایران جنگ کے لیے صدارتی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد کی منظوری پر ڈیموکریٹس ارکان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انھیں غیر محبِ وطن قرار دیدیا۔
عالمی میڈیا کے مطابق ایوان نمائندگان میں اسپیکر مائیک جانسن کی تمام تر کوششوں کے باوجود صدر ٹرمپ کے ایران جنگ میں اختیارات کو محدود کرنے کی قرارداد کے حق میں 215 اور مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
یہ قرارداد 1973 کے 'جنگی اختیارات' (War Powers Act) کے تحت منظور کی گئی جس کے بعد اب صدر ٹرمپ کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف کوئی بھی یکطرفہ فوجی کارروائی یا فضائی حملے نہیں کر سکیں گے۔
امریکی صدر کے لیے سب سے بڑا دھچکا یہ تھا کہ اس قرارداد میں ان کی اپنی جماعت ریپبلکن پارٹی کے 4 ارکان نے بھی اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا اورڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ووٹ دیا۔
جس پر صدر ٹرمپ نے ان چاروں اراکین کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کو اپنی اس حرکت پر شرم آنی چاہیے جنھوں نے صرف سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے پارٹی لائن سے غداری کی ہے۔
اپنے ایک سوشل میڈیا بیان میں صدر ٹرمپ نے بالخصوص اپوزیشن ارکان پر سخت برہم ہوتے ہوئے ایوان نمائندگان میں ہونے والی حالیہ ووٹنگ کو بے معنی اور ملکی مفادات کے منافی حرکت قرار دیا۔ اور کہا کہ ڈیموکریٹس ملک کے مفاد کے خلاف کام کر رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ ڈیموکریٹس سیاسی عداوت میں اس حد تک آگے بڑھ چکے ہیں کہ وہ انھیں ( صدر ٹرمپ) کو کامیابیوں سے روکنے کے لیے ملک کو بھی ناکام کرنے پر تل گئے ہیں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ قرارداد ایک ایسے حساس وقت پر منظور کی گئی جب وہ ایران کے ساتھ تین ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے حتمی اور فیصلہ کن دور کے مذاکرات کر رہے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب پوری دنیا اور اپوزیشن یہ جانتی ہے کہ ایران کے ساتھ امن مذاکرات کہاں تک پہنچ چکے ہیں تو اپنے ہی ملک کے خلاف ایسی حرکت کون کر سکتا ہے؟
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ اپنے مشیروں کو پہلے ہی یہ ہدایات دے چکے ہیں کہ امریکا اب ایران کے ساتھ دوبارہ نئی جنگ کا آغاز نہیں کرے گا بلکہ پرامن تصفیہ چاہتا ہے۔
اگرچہ ڈیموکریٹس نے اس فتح پر ایوان میں جشن منایا تاہم وائٹ ہاؤس نے اس اقدام کو غیر آئینی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے اور قوی امکان ہے کہ صدر ٹرمپ اس صدارتی ویٹو (Veto) کے ذریعے منسوخ کر دیں گے۔