پاک، امریکا کے تعلقات میں بڑی پیشرفت، پاکستان ٹرمپ انتظامیہ کا اہم غیر متوقع شراکت دار بن گیا

 پاکستان 2026 کے امریکہ-ایران تنازع میں کلیدی سفارتی ثالث کے طور پر سامنے آیا

(فوٹو: اے آئی جنریٹڈ)

معروف امریکی ویب سائٹ ووکس نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں بڑی پیشرفت ہوئی ہے جب کہ پاکستان ٹرمپ انتظامیہ کا اہم اور غیر متوقع شراکت دار بن کر ابھرا ہے۔

ووکس کے تجزیہ کے مطابق پاکستان 2026 کے امریکہ-ایران تنازع میں کلیدی سفارتی ثالث کے طور پر سامنے آیا، پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان رابطوں، جنگ بندی اور مذاکراتی عمل میں مرکزی کردار ادا کیا، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف نے سفارتی کوششوں کی قیادت کی۔

مزید کہا گیا کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان 1979 کے بعد اعلیٰ ترین سطح کے مذاکرات کی میزبانی کی، واشنگٹن اور تہران دونوں پاکستان کو قابل اعتماد رابطہ کار اور ثالث سمجھتے ہیں، صدر ٹرمپ نے پاکستان کے سفارتی کردار کی کھل کر تعریف کی۔

ووکس کے مطابق پہلی مدتِ صدارت کے برعکس ٹرمپ انتظامیہ نے اسلام آباد کے حوالے سے پالیسی میں تاریخی تبدیلی کی، پاکستان اور امریکا کے درمیان دہشت گردی کے خلاف تعاون اور اہم معاہدوں پر پیش رفت جاری ہے، پاکستان اور امریکہ کے درمیان کرپٹو اور نایاب معدنیات کے شعبوں میں بڑے معاہدے طے پا گئے۔

ووکس کے مطابق بدلتی امریکی ترجیحات کے باعث پاکستان کی علاقائی اور عالمی اہمیت میں نمایاں اضافہ ہوا، پاکستان امریکہ، چین، سعودی عرب اور ایران کے ساتھ بیک وقت مؤثر روابط برقرار رکھنے میں کامیاب رہا، پاکستان مشرق وسطیٰ کی سفارت کاری میں اہم اور مؤثر فریق بن چکا ہے۔

ووکس نے کہا کہ پاکستان نے عالمی تنازعات کے حل میں اپنی بین الاقوامی ساکھ اور اثر و رسوخ مزید مضبوط کیا، پاکستان علاقائی اور عالمی سطح پر ناگزیر سفارتی شراکت دار کے طور پر اپنی اہمیت منوا رہا ہے، سفارتی کامیابیوں کے باوجود امریکی حمایت پر حد سے زیادہ انحصار اور علاقائی عدم استحکام پاکستان کے لیے چیلنج برقرار ہے۔

Load Next Story