بھارت کا خفیہ منصوبہ بے نقاب؟ نکوبار جزیرہ چین کی معاشی شہ رگ پر دباؤ ڈالنے کا نیا ہتھیار بن گیا

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ملاکا کے قریب موجودگی بھارت کو خطے میں اسٹریٹجک برتری فراہم کر سکتی ہے

بھارت کے جنوبی سمندری علاقے میں واقع گریٹ نکوبار جزیرہ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جہاں بھارتی حکومت تقریباً 11 ارب ڈالر مالیت کے ایک بڑے ترقیاتی اور اسٹریٹجک منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ بعض بھارتی دفاعی حلقے اس منصوبے کو چین کے بڑھتے ہوئے علاقائی اثرورسوخ کے مقابلے کی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں۔

گریٹ نکوبار جزیرہ جغرافیائی لحاظ سے نہایت اہم مقام پر واقع ہے اور آبنائے ملاکا کے قریب ہونے کی وجہ سے بین الاقوامی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے چین اپنی بڑی مقدار میں خام تیل اور تجارتی سامان درآمد کرتا ہے۔

بھارتی حکومت کے منصوبے کے تحت جزیرے پر ایک جدید ٹرانس شپمنٹ بندرگاہ، بین الاقوامی ہوائی اڈہ، بجلی گھر، سیاحتی مراکز اور تقریباً ساڑھے تین لاکھ افراد کے لیے نئی بستی قائم کی جائے گی۔ حکام کے مطابق اس منصوبے کا مقصد تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی ترقی کو فروغ دینا ہے۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ملاکا کے قریب موجودگی بھارت کو خطے میں اسٹریٹجک برتری فراہم کر سکتی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق مستقبل میں اگر چین اور بھارت کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے تو یہ مقام نئی جغرافیائی اور معاشی اہمیت اختیار کر سکتا ہے۔

تاہم بھارتی بحریہ کے سابق نائب سربراہ شیکھر سنہا سمیت کئی ماہرین نے اس تصور کو مسترد کیا ہے کہ بھارت آبنائے ملاکا کو آبنائے ہرمز کی طرز پر استعمال کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق آبنائے ملاکا بین الاقوامی قوانین اور خطے کے دیگر ممالک کے دائرۂ اختیار سے بھی جڑی ہوئی ہے، اس لیے اسے کسی ایک ملک کے دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنا آسان نہیں۔

دوسری جانب ماحولیاتی تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں نے اس منصوبے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے لیے تقریباً 9 لاکھ 64 ہزار درخت کاٹے جائیں گے جبکہ صدیوں سے جزیرے میں آباد شومپین اور نکوباری قبائل کے طرزِ زندگی اور وجود کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

قبائلی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیموں نے اقوام متحدہ میں بھی اس منصوبے کے خلاف رپورٹ جمع کرائی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ بیرونی آبادی اور تعمیراتی سرگرمیوں کی وجہ سے مقامی قبائل کی ثقافت، ماحول اور صحت متاثر ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب بھارت کا مؤقف ہے کہ گریٹ نکوبار منصوبہ قومی سلامتی، سمندری تجارت اور معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ ملک کی بحری صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ انڈو پیسیفک خطے میں بھارت کی موجودگی کو مزید مؤثر بنائے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اور آبنائے ہرمز سے متعلق خدشات کے بعد آبنائے ملاکا کی اسٹریٹجک اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، جس کے باعث گریٹ نکوبار منصوبہ عالمی سطح پر خاص توجہ حاصل کر رہا ہے۔

Load Next Story