بجٹ اور عوامی فلاح و بہبود کے تقاضے
پاکستان کا بجٹ 2026-27 عنقریب پیش کیا جائے گا۔ فی الحال نئی تاریخ 10 جون کی دی گئی ہے۔ پیش ہونے والا بجٹ روایتی ہندسوں کی بازی گری کے ساتھ آئی ایم ایف کے نئے اور کڑے پروگرام کی دہلیز پر کھڑی نازک معاشی صورتحال کی رونمائی، خوشنما الفاظ میں ہونے والی ہے۔
اب تو ہمارے حکام کے لیے بجٹ بنانا اس درزی جیسا کام ہو گیا ہے جو کپڑا کم ہونے پر عجیب و غریب سوٹ سی کر کہتا ہے صاحب یہ آج کل کا ’’نیا نیا فیشن‘‘ ہے اور پھر ہمارے معاشی پنڈت بجٹ پیش کرتے وقت ایسے امید افزا خوشنما ہندسے پڑھتے چلے جائیں گے جسے سن سن کر ایسا گمان ہونے لگے گا جیسے سوئٹزرلینڈ نے اپنا بجٹ قومی اسمبلی ہال کے غلط پتے پر بھیج دیا ہے اور اپوزیشن والے شور مچانے کے بجائے بجٹ کے چند ہی اعداد و شمار سن لیتے تو اپنا احتجاج فوراً روک دیتے اور اس بات کی طرف توجہ دلاتے کہ یہ کسی یورپی ملک کا بجٹ ہم سن رہے ہیں شاید۔ بجٹ میں عموماً یہ کہا جاتا ہے کہ ملک ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو چکا ہے اور جی ڈی پی کی شرح نمو میں بھی اضافہ ہوا ہے، لیکن اس اضافے کا عام آدمی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک جب اپنے بجٹ کا حساب کتاب کرتے ہیں تو وہ اعداد و شمار کو نہیں دیکھتے وہ اپنے شہریوں کی فلاح و بہبود کے وزن کو تولتے ہیں کہ اس بجٹ کے نفاذ سے عوام کو کیا راحت ملے گی۔ ہمارا بجٹ خسارے کا ہوتا ہے۔ ٹیکس عائد کرنے کا نام بجٹ ہوتا ہے۔ بجٹ کے اس گورکھ دھندے کا اہم مقصد یہ ہے کہ ایک بار پھر عوام سے قربانی مانگی جائے گی اور اشرافیہ سے کہا جائے گا کہ نہ گھبراؤ تمہیں کچھ نہیں ہوگا اور غریبوں کی فلاح و بہبود کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔
اس وقت جب کہ عنقریب بجٹ پیش ہونے والا ہے ملکی معیشت کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کہہ رہے تھے کہ پائیدار معیشت کے لیے صنعت و پیداوار کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ ایک طرف حکومت صنعت کاری، برآمدات اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی بات کر رہی ہے، دوسری طرف حکومت کی مالی گنجائش انتہائی محدود ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کے لیے وزارتوں نے 4 کھرب روپے تک طلب کر رکھے ہیں لیکن ایک کھرب سے زائد رقم مختص کرنے کی تجویز رکھی جا رہی ہے۔
وزیر اعظم کی بات کو سامنے رکھیں تو ان کے مطابق برآمدات میں اضافہ، صنعتی پیداوار کی توسیع اور غیر ملکی سرمایہ کاری ہی پاکستان کو دیرپا معاشی استحکام کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، یہ محض ایک بیان نہیں بلکہ پاکستان کی معیشت کے سامنے کھڑا وہ آئینہ ہے جس میں گزشتہ کئی دہائیوں کی کامیابی اور ناکامی، امیدیں اور اندیشے سب دکھائی دیتے ہیں اور بجٹ کے بعد ایک بار پھر کارخانے دار بجلی گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور نئے آنے والے آرڈرز میں اتفاق پیدا کرنے کی کوشش میں پھر ناکام ہو جاتا ہے اور نوجوان انجینئر کو بجٹ سننے کے بعد فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ شاید اسے اب بیرون ملک ہی چلے جانا چاہیے۔ میرا خیال ہے کہ پاکستان بار بار ایک ہی دائرے میں گھوم رہا ہے۔
اب ایک بار پھر بار بار پہلے کی طرح اس مرتبہ بھی اس امید پر ہے کہ برآمدات پر مبنی پائیدار ترقی ہی معاشی استحکام کا ضامن ہے۔ حکومت کی جانب سے بجٹ میں بڑے خوبصورت اہداف رکھے جائیں گے، لیکن اہداف مقرر کرکے اس کے حصول کے لیے جو پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں ، ظاہر ہے اس کے لیے حکومت کے پاس وسائل محدود ہوتے ہیں۔ بجٹ کے صفحات پر ایک بار پھر شاید صنعتی زونز، برآمدی مراعات، توانائی اصلاحات، ڈیجیٹل معیشت کے خوشنما الفاظ ہی نہیں پورے صفحات کے صفحات درج ہوں گے۔ لیکن اس غریب کے لیے کیا ہوگا جسے حکومتی ہدف سے زیادہ آٹا، چینی، ادویات کی قیمتوں کی فکر ہے۔
اسے برآمدات سے زیادہ بچوں کی فیس اور کرایہ ادا کرنے کی پریشانی ہے۔ اسے بیرونی سرمایہ کاری کے اعلانات سے زیادہ اپنی ملازمت کے تحفظ اور آمدنی میں اضافے کی امید ہے۔یہی افرادی قوت کام کرتے ہیں جسے اپنی ملازمت کے تحفظ کی فکر ہے، اگر اس کے ہنر میں اضافے کے لیے حکومت ٹریننگ دے تو ہنر مند افرادی قوت برآمدات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ پاکستان کا ٹیکسٹائل شعبہ جو برآمدات میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے گزشتہ کئی دہائیوں سے اپنے مطالبات حکومت کے سامنے رکھتا ہے۔ آج بہت سے ٹیکسٹائل انجینئر ملکی ٹیکسٹائل کی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے بیرون ملک جانے کا فیصلہ کر رہے ہیں اور ہزاروں جا بھی چکے ہیں اور پھر صنعتوں کو وقتی طور پر مراعات دینا کافی نہیں ہوتا بلکہ پالیسیوں کا تسلسل، قانونی تحفظ، شفافیت اور معاشی استحکام لانے کی بھی ضرورت ہے۔
بجٹ صرف اعداد و شمار کی کتاب نہیں بلکہ امید اور حقیقت کے درمیان لکھی جانے والی ایک قومی دستاویز ہے، اگر اس دستاویز سے صنعت کے چراغ روشن ہوتے ہیں، ہنرمند مزدور تیار ہوتے ہیں، پیداوار کے پہیے تیز گھومتے ہیں، برآمدات کے قافلے بڑھتے ہیں، غیر ضروری درآمدات کے سلسلے رکتے چلے جاتے ہیں اور ملکی حالات اتنے اچھے ہوتے چلے جائیں کہ سرمایہ کاری کے دروازے کھلتے چلے جائیں، غریب مزدور کو مزدوریاں ملتی چلی جائیں، کسان کو اس کی پیداوار کی لاگت کے حساب سے معاوضہ ملتا چلا جائے، بجٹ کا اصلی امتحان یہی ہے کہ کس طرح غربت میں کمی اور غریب کی فلاح و بہبود میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ شاید بجٹ میں عوامی فلاح و بہبود کے تقاضوں کے لیے کچھ نہ کچھ ہو۔