وفاق اور کراچی کی ترقی
کراچی 1947 سے 1970تک مرکز کا حصہ رہا۔ 1947 سے 1960 تک کراچی نئے ملک کا دارالحکومت رہا۔ 1955ء میں ون یونٹ کے قیام کے بعد سندھ، پنجاب اور سرحد،مغربی پاکستان میں ضم ہوگئے، لاہور مغربی پاکستان کا دارالحکومت بنادیا گیا۔ کراچی جب ملک کا دارالحکومت بنا تو اس شہر کی آبادی ایک اندازے کے مطابق 4 لاکھ 50 ہزار کے قریب تھی مگر ہندوستان کے بٹوارے کے بعد ہونے والے فسادات کے نتیجے میں لاکھوں افراد ہندوستان سے اپنے آباؤ اجداد کے گھروں کو چھوڑ کر کراچی میں آباد ہوگئے۔ اس کے بعد کراچی کی آبادی میں حیرت انگیز اضافہ ہوا۔
1951ء میں ہونے والی مردم شماری کے نتائج کے مطابق کراچی کی آبادی 1.13 ملین ہوگئی تھی۔ پنجاب، سرحد اور مشرقی بنگال سے بھی ہزاروں افراد کراچی میں آباد ہوئے۔ ایک اندازے کے مطابق 1955ء میں کراچی کی آبادی 1.37 ملین تک پہنچ گئی تھی۔ ملک کے پہلے وزیر اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کی حکومت کی اولین ترجیحات میں دفاع سب سے اول تھا۔ اس بناء پر بجٹ میں کراچی کے انفرااسٹرکچر کو جدید ترین خطوط پر استوار کرنے کے لیے خاطرخواہ منصوبہ بندی نہیںہوسکی۔ پاکستان کی پہلی پارلیمنٹ نے کراچی کے پولیس کے نظام کو بھارت کے صنعتی دارالحکومت بمبئی کے پولیس ڈائریکٹریٹ کی طرح تبدیل کرنے کے لیے ایک قانون کی منظوری دی تھی۔
بمبئی کے پولیس ڈائریکٹریٹ کے نظام میں عوامی منتخب نمائندوں کو پولیس کے نظام کی نگرانی کا اختیار حاصل ہوگیا تھا مگر ملک کے پہلے گورنر جنرل بیرسٹر محمد علی جناح نے اس قانون کے ڈرافٹ کی غیر معیاری انگریزی پر اعتراض کرتے ہوئے اس کی توثیق نہیں کی تھی۔ مسلم لیگ کی حکومت نے دنیا کے جدید شہروں لندن، نیویارک اور واشنگٹن وغیرہ کے نظام کی طرح نچلی سطح کے بلدیاتی نظام کے نفاذ کو ضروری نہیں سمجھا، یوں کراچی شہر ہمیشہ بیوروکریسی کی نگرانی میں رہا۔ امراء سے تعلق رکھنے والی بیوروکریسی نے دنیا بھر کے شہروں کی تاریخ سے سبق سیکھنے کے بجائے غریبوں کی بستیوں کو شہر سے دور منتقل کرنے کے منصوبوں پر عملدرآمد شروع کردیا۔ اس پالیسی کے تحت کورنگی، لانڈھی، پاک کالونی، مہاجر کیمپ، پٹھان کالونی، شیرشاہ، نیو کراچی اور ڈرگ کالونی وغیرہ کے علاقے آباد ہوئے۔ برسر اقتدار حکومتوں نے شہر میں پانی کی فراہمی، گندے پانی کی نکاسی اور ٹرانسپورٹ کے جدید نظام کے قیام کو ضروری نہیں سمجھا۔
ملک کے پہلے غیر سول صدر جنرل ایوب خان کے دورِ اقتدار میں پہلی دفعہ کراچی کے شہریوں کو ٹرانسپورٹ کی بہتر سہولتوں کی فراہمی کے لیے سرکلر ریلوے تعمیر کی گئی۔ پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت جس کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو تھے، میں شہر کے انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانے پر توجہ دی گئی۔ ان کے دورِ اقتدار میں شاہراہ فیصل، شہید ملت روڈ اور کلفٹن جانے والی شاہراہ ایران کو توسیع دی گئی۔ ناظم آباد میں عباسی شہید اسپتال، لیاری میں جنرل اسپتال، لیاقت آباد کی سپر مارکیٹ وغیرہ اس دور کی یادگار ہیں مگر بھٹو دور میں قدیم ٹرام وے سروس کو بند کردیا گیا۔ کراچی میں ٹرام وے سروس بمبئی اور کلکتہ سے پہلے شروع ہوئی تھی۔ نئی آبادیوں میں ٹرام سروس شروع کرکے اس کو سرکلر ریلوے سے منسلک کردیا جاتا اور مزید یہ کہ سرکلر ریلوے کو انڈرگراؤنڈ ٹرین کے نظام میں تبدیل کردیا جاتا تو پبلک ٹرانسپورٹ کا مسئلہ پیدا نہیں ہوتا۔
جنرل ضیاء الحق کے دورِ اقتدار میں کراچی کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا بلکہ افغان باشندوں کو کراچی شہر آنے کی اجازت دیدی گئی۔ ان لوگوں نے کوڑا مافیا بنالی جس کا نقصان یہ ہوا کہ دنیا بھر کے شہروں کی طرز پر کراچی میں کوڑے سے بجلی بنانے کا ہر پروجیکٹ ناکام ہوا۔ شہر سمندر کے کنارے آباد ہونے کے باوجود بجلی کی کمی کا شکار ہوا۔
1987ء سے گزشتہ صدی کے اختتام تک کراچی بدامنی کا شکار رہا۔ کراچی سے صنعتیں اور کاروباری ادارے پنجاب منتقل ہوئے، نئی سرمایہ کاری رک گئی۔ پیپلز پارٹی کی تیسری حکومت میں وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے ماس ٹرانزٹ منصوبہ کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔ اس وقت کے کے ایم سی کے ایڈمنسٹریٹر فہیم الزماں نے شہر میں کئی اوورہیڈ برج تعمیر کرائے اور کوڑے کو مال گاڑی کے ذریعے شہر سے دور منتقلی کے لیے کام شروع کیا گیا، مگر فہیم الزماں جلدی رخصت کردیے گئے۔
سابق صدر پرویز مشرف کے دورِ اقتدار میں نچلی سطح کا بلدیاتی نظام قائم ہوا، ڈپٹی کمشنر کا ادارہ ختم ہوگیا۔ اس نظام کے تحت کراچی، حیدرآباد اور لاہور وغیرہ میں خاطرخواہ ترقی ہوئی۔ اس نظام میں ایک اہم خامی یہ تھی کہ صوبے کی اہمیت ختم کردی گئی تھی۔ اسلام آباد سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کو ریگولیٹ کررہا تھا، اس خامی کو دور کیا جاسکتا تھا۔ جب 2008ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی تو صدر آصف علی زرداری نے ایم کیو ایم سے معاہدہ کیا۔ اس معاہدے کے تحت نچلی سطح تک اختیارات کے بلدیاتی نظام کے قانون پر اتفاق رائے ہوا تھا، مگر ایک طرف سندھی قومی پرستوں نے احتجاج شروع کیا تو دوسری طرف ایم کیو ایم کے جنگجو گروپ کی کارروائیاں جاری رہیں۔
ایک مربوط آپریشن کے ذریعہ اس جنگجو گروپ کا قلع قمع کیا گیا۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی انتہاپسندانہ تقریر کے بعد ایک اور مختصر آپریشن ہوا جس کے نتیجے میں ایم کیو ایم اپنی حیثیت کھو بیٹھی اور ریاستی اداروں کی بی ٹیم کی فہرست میں شامل ہوگئی۔ پیپلز پارٹی نے نچلی سطح کے بلدیاتی نظام کو فائلوں میں دفن کردیا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کے پالیسی بنانے والے میرٹ اور اچھی طرز حکومت پر یقین ہی نہیں رکھتے، یوں کراچی سمیت پورے سندھ کی ترقی سست رفتاری کا شکار ہوگئی۔ لاہور میں گرین لائن کے ساتھ اورنج ٹرین شروع ہوئی۔ اب انڈرگراؤنڈ ٹرین کی منصوبہ بندی ہورہی ہے۔
لاہور سے راولپنڈی تیز رفتار ٹرین چلنے لگی۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کے پاس نمایاں کرنے کے لیے ایک صحت کا شعبہ ہی رہ گیا ۔ ایس آئی یو ٹی اور قومی ادارہ امراضِ قلب (N.I.C.V.D) نے ضرور ترقی کی مگر دیگر سرکاری اسپتالوں کی حالت ناگفتہ بہ رہی۔ اندرونِ سندھ ایڈز اور ایچ آئی وی کا مرض پھیل رہا ہے۔ سندھ میں کتے کے کاٹنے کی اموات بہت بڑھ گئی ہیں۔ کراچی کے شہری ہر تیسرے دن دھابیجی سے بجلی کی سپلائی منقطع ہونے یا پانی کی پائپ لائن پھٹنے کی خبریں سن سن کر تنگ آگئے ہیں۔ جب کوئی رکن صوبائی اسمبلی میں کراچی کے پانی کے مسئلہ پر آواز اٹھاتا ہے تو وزیر بلدیات دھابیجی سے آنے والی پائپ لائن کے ہر ہفتہ ٹوٹنے پر کوئی بات کرنے کے بجائے محض یہ نعرہ لگاتے ہیں وفاق K-IV منصوبہ کے لیے فوراً رقم بھیج دے۔ ’’بحیرئہ ہرمز پہلے کھلے گی، ریڈ لائن کا کیا ہوگا؟‘‘ کا ٹرینڈ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا۔ اس کے بعد حکومت نے اس منصوبے کو سنجیدگی سے لینا شروع کیا اور پہلی بار اس سڑک کے ساتھ متبادل سڑک بنائی گئی۔
بہرحال ریڈ لائن کا منصوبہ جو گزشتہ 7 برسوں سے التواء کا شکار ہے لیکن شاہراہِ بھٹو وقت پر مکمل ہوگئی، گل پلازہ آتشزدگی کے بارے میں عدالتی رپورٹ کہاں گئی، پیپلز پارٹی کی قیادت کو ہر صورت میں ان سوالات کا جواب دینا چاہیے، اس صورتحال میں طالع آزما قوتوں سے توانائی حاصل کرنے والے گروہوں نے نئے صوبے بنانے اور 28ویں ترمیم کے نعرے لگانے شروع کردیئے۔
کراچی سندھ کا دارالحکومت ہے۔ کراچی جب بھی مرکز میں گیا ترقی کی رفتار کمزور ہوگئی۔ کراچی سمیت تمام شہروں کی ترقی کا راستہ نچلی سطح تک اختیارات کے بلدیاتی نظام میں ہی مضمر ہے۔ یہ حقیقت نہ صرف سندھ میں بلدیاتی نظام قائم ہے بلکہ اس نظام کے تحت ترقی کا عمل تیز ہوا۔ اس وقت بلدیہ کراچی کی حدود شہر صرف 33 فیصد حصہ تک ہے اور باقی حصے پر وفاق کے اداروں کی اجارہ داری ہے۔
سندھ حکومت کو چاہیے کہ بلدیاتی قانون میں ترمیم کرے۔ بلدیہ کراچی کا اختیار پورے کراچی شہر پر ہونا چاہیے۔ ٹاؤن ناظم اور یونین کونسل کو بااختیار ہونا چاہیے۔ کراچی کے میئر کے اختیارات ممبئی، لندن اور نیویارک کے میئر کے برابر ہونے چاہئیں۔ پیپلز پارٹی کو تو پنجاب ، خیبرپختون خوا اور بلوچستان میں نچلی سطح تک کے اختیارات کے بلدیاتی نظام رائج کرنے کے لیے رائے عامہ ہموار کرنی چاہیے۔ ملازمتوں میں صرف میرٹ کا اصول نافذ ہونا چاہیے۔ اس طرح طالع آزما قوتوں کا راستہ روکا جا سکتا ہے۔