مشرق وسطیٰ اور نئی عالمی صف بندی

 حماس اور حزب اﷲ کی قیادت اس پیش بندی کو اپنے خلاف سمجھتی ہے

تاریخ کے بعض موڑ ایسے ہوتے ہیں جب ایک سفارتی معاہدہ محض چند دستخطوں کا مجموعہ نہیں رہتا بلکہ آنے والی نسلوں کی سیاسی سمت کا تعین کرنے لگتا ہے۔ چند برسوں سے مشرقِ وسطیٰ کی نئی جیوپولیٹیکل صف بندی کے اشارے مل رہے ہیں۔

دنیا کی سیاست میں بعض فیصلے صرف وقتی سفارتی اقدامات نہیں ہوتے بلکہ وہ آنے والے عشروں کی عالمی سیاست کا رخ متعین کرتے ہیں۔ جس نے مشرقِ وسطیٰ، عرب دنیا اور فلسطین کے مسئلے کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔

2020 میں امریکا کی سرپرستی میں اسرائیل اور چند عرب ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدوں کو دنیا کے سامنے ’’امن’’ اور ’’بین المذاہب ہم آہنگی‘‘ کے عنوان سے پیش کیا گیا۔

متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے، تجارت، دفاع، سیاحت اور ٹیکنالوجی کے دروازے کھولے گئے اور یوں مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی صف بندی کا آغاز ہوا۔

لیکن سوال یہ ہے کہ امریکا مختلف ممالک خصوصاً مشرق وسطیٰ کے ممالک کو مختلف قسم کے معاہدوں کی طرف کیوں لانے کا خواہش مند ہے؟ مشرق وسطیٰ کے ممالک کیوں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کررہے ہیں؟ کیا واقعی اس کا مقصد صرف امن ہے یا کوئی نئی عالمی صف بندی ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ امریکا کئی برسوں سے مشرقِ وسطیٰ میں ایک ایسا بلاک تشکیل دینا چاہتا ہے جو اس پورے خطے کومکمل معاشی و عسکری اتحاد کی شکل دے سکے۔ واشنگٹن جانتا ہے کہ اگر عرب دنیا اسرائیل کو ایک ’’حقیقت‘‘ کے طور پر قبول کر لے تو فلسطین کا مسئلہ بھی باآسانی طے ہوجائے گا اور امریکا کے مشرق وسطیٰ، افریقہ میں مفادات بھی محفوظ ہوجائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کوششوں کو صرف سفارتی نہیں بلکہ اسٹریٹجک منصوبہ سمجھا جا رہا ہے۔

اس معاہدے کے پسِ پردہ ایک اور اہم عنصر ایران ہے۔ امریکا، اسرائیل اور خلیجی ممالک خطے میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو محدود کرنا چاہتے ہیں۔ خلیجی ممالک کو سیکیورٹی، دفاعی تعاون اور جدید ٹیکنالوجی کی پیشکش کر کے انھیں اسرائیل کے قریب لایا جا رہا ہے تاکہ ایک مشترکہ علاقائی اتحاد تشکیل دیا جا سکے۔

کئی ناقدین کا خیال ہے کہ امریکا مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی معاشی وعسکری صف بندی قائم کرنا چاہتا ہے۔ اس کے ذریعے وہ، چین اور روس کے بڑھتے ہوئے اثرات کا مقابلہ بھی کرنا چاہتا ہے۔ گویا مذہب، سفارت کاری، تجارت اور دفاع سب کو ایک ہی سیاسی فریم میں سمو دیا گیا ہے۔

 حماس اور حزب اﷲ کی قیادت اس پیش بندی کو اپنے خلاف سمجھتی ہے۔ ان کے نزدیک عرب ممالک نے فلسطینی ریاست کے قیام کو پسِ پشت ڈال کر اپنے معاشی اور دفاعی مفادات کو ترجیح دی ہے۔

پاکستان کا معاملہ واضح ہے۔ پاکستان نے قیامِ پاکستان سے آج تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا اور اس کی خارجہ پالیسی فلسطینی عوام کی حمایت پر قائم رہی ہے۔ پاکستان کے عوام میں بھی فلسطین کے حوالے سے شدید جذبات پائے جاتے ہیں۔

خلیجی ملکوں کی صورتحال قدرے مختلف مگر پیچیدہ ہے۔دوسری طرف دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ اب صرف نظریات کی بنیاد پر نہیں بلکہ معیشت، دفاع، ٹیکنالوجی، توانائی اور جغرافیائی مفادات کے تحت نئی شکل اختیار کر رہا ہے۔

عرب ممالک اپنے قومی مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں ۔اصل سوال یہی ہے کہ کیا فلسطینی عوام کو انصاف دیئے بغیر مشرقِ وسطیٰ میں حقیقی امن قائم ہو سکتا ہے؟

تاریخ بتاتی ہے کہ طاقت کے زور پر کیے گئے معاہدے وقتی سکون تو پیدا کر سکتے ہیں مگر پائیدار امن نہیں۔ جب تک فلسطینیوں کو ان کا حق، شناخت اور ریاست نہیں ملتی، مشرقِ وسطیٰ کا بحران کسی نہ کسی شکل میں زندہ رہے گا۔

Load Next Story