ماہرینِ فلکیات نے بلیک ہول سے جُڑا اہم معمہ حل کرلیا!
ماہرینِ فلکیات نے ہماری کہکشاں ملکی وے کے مرکز میں موجود ایک سپر میسیو بلیک سے جڑا ایک معمہ بالآخر نصف صدی سے زائد عرصہ بعد حل کر لیا۔
عام طور پر بلیک ہول اپنے گرد موجود مادّے کو نگلتے ہوئے طاقتور جیٹس خارج کرتے ہیں لیکن ہماری ملکی وے کے مرکز میں موجود سپر میسیو بلیک ہول سیگیٹیریس اے* سے متعلق یہ معمہ پچاس برس سے سائنس دانوں کو پریشان کیے ہوئے تھا کہ اس کی خارج کردہ جیٹس کہاں ہے۔
اب تک حاصل ہونے والی سب سے تفصیلی مشاہداتی تصاویر نے اس بلیک ہول کے گرد موجود تقریباً 20 ہزار سال پرانے جیٹس کے واضح آثار دکھا دیے ہیں، جس سے سائنس دانوں کو یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ یہ بلیک ہول ہماری کہکشاں کی تشکیل، ارتقا اور کائناتی ماحول پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے۔
تحقیق کے شریک سربراہ اور نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے ماہرِ فلکیات مارک گورسکی نے کہا کہ اگر کوئی بلیک ہول مکمل خلا میں موجود نہ ہو تو اسے کسی نہ کسی شکل میں جیٹس خارج کرنا ہی پڑتے ہیں اور کائنات میں مکمل خلا کہیں موجود نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ نئے مشاہدات نے پہلی بار سائنس دانوں کو اتنی صاف تصویر فراہم کی ہے کہ اس جیٹ کے نشانات کو واضح طور پر دیکھ سکیں۔ جب محققین نے ڈیٹا کا جائزہ لیا تو ان کے منہ سے بے اختیار نکلا یہی وہ چیز ہے جسے دنیا بھر کے سائنس دان پچاس سال سے تلاش کر رہے تھے۔