آئی ایم ایف پروگرام، حکومت کا محدود ٹیکس ریلیف پرغور

موبائل فون،ہائبرڈگاڑیوں ودیگر شعبوں پرحتمی فیصلہ آئی ایم ایف مشاورت کے بعدہوگا

اسلام آباد:

وفاقی حکومت آئندہ بجٹ میں وسیع پیمانے پر ٹیکس ریلیف دینے کے بجائے محدودریلیف پیکیج پر غورکررہی ہے، تاکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کی شرائط پر عملدرآمد بھی جاری رکھاجاسکے۔

ذرائع کے مطابق مجوزہ ریلیف زیادہ تر تنخواہ دار طبقے، صنعتکاروں اوربرآمدکنندگان تک محدود رہ سکتا ہے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیکس ریلیف سے متعلق مختلف تجاویز وزیراعظم کو پیش کردی گئی ہیں، حتمی فیصلہ ان کی منظوری اور آئی ایم ایف سے مشاورت کے بعد کیاجائیگا۔ 

وزارت خزانہ 10 جون سے قبل مجوزہ اقدامات پر آئی ایم ایف کی رائے حاصل کریگی، تنخواہ دارطبقے کیلیے زیر غورتجاویزمیں ماہانہ 2لاکھ سے3 لاکھ روپے آمدن رکھنے والوں کیلیے انکم ٹیکس کی شرح میں کمی شامل ہے۔

مجوزہ منصوبے کے مطابق تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار ٹیکس دہندگان کو ریلیف مل سکتاہے، 2 لاکھ 67 ہزارروپے تک ماہانہ آمدن پر ٹیکس شرح میں 4 فیصد اور تین لاکھ 41 ہزار روپے تک آمدن پر 5 فیصدکمی کی تجویزدی گئی۔

ذرائع کے مطابق حکومت اعلیٰ آمدن والے ملازمین کیلیے بھی ریلیف پر غورکررہی ہے،موجودہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس شرح کے اطلاق کی حد بڑھانے اور ایک نئی ٹیکس سلیب متعارف کرانے کی تجاویز زیرغور ہیں، تاکہ 35 فیصد انکم ٹیکس صرف زیادہ آمدن والوں پر لاگو ہو۔

دوسری جانب حکومت موبائل فونز پر عائد بھاری ٹیکسوں میں کمی کے امکان کا بھی جائزہ لے رہی ہے، تاہم ذرائع کاکہناہے کہ اس حوالے سے ریلیف کے امکانات محدود ہیں۔

اس وقت درآمدی موبائل فونز پر مختلف محصولات اورسیلز ٹیکس ملاکرمجموعی ٹیکس بوجھ 55 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔

کاروباری شعبے کیلیے 15 فیصد ڈیویڈنڈانکم ٹیکس ختم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،جس سے کمپنیوں کو بڑاریلیف مل سکتاہے، تاہم اس اقدام سے قومی خزانے کو تقریباً 90 سے 100 ارب روپے کامالی اثر پڑنے کاامکان ہے،اسی طرح برآمدکنندگان پر عائد ایک فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس ختم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت رئیل اسٹیٹ سیکٹرکوکسی بڑے ریلیف دینے کے موڈمیں نہیں،جبکہ ہائبرڈگاڑیوں پر سیلزٹیکس بڑھانے کی تجویز پر بھی غورجاری ہے۔

اس کے علاوہ کاغذ، اسٹیشنری اور سگریٹ مصنوعات پر ٹیکس سے متعلق متعدد تجاویز زیر غور ہیں، حکومت آئندہ چندروز میں آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات مکمل ہونے کے بعد تجاویز پرحتمی فیصلہ کریگی۔
محدودٹیکس ریلیف


 

متعلقہ

Load Next Story