وفاقی بجٹ کی مناسبت سے کئی دن سے ٹی وی اسکرینوں، اخبارات اور سوشل میڈیا پر بھانت بھانت کی بحثیں جاری ہیں۔ کس پر کونسا نیا ٹیکس لگے گا؟ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں کتنی بڑھیں گی؟ تنخواہ دار طبقے اور دستاویزی شعبوں کو کونسی نئی شامت کا سامنا ہوگا؟ ہر سال بڑھتے ریونیو ٹارگٹس اور ان سے زیادہ تیزی سے بڑھتے ہوئے اخراجات کا نزلہ کہاں کہاں گرے گا؟ آئی ایم ایف کے اس بار کیا تقاضے ہیں؟
یہ تمام سوال اپنی جگہ اہم ہیں لیکن ان سوالوں میں الجھ کر ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ہم ’’بیماری‘‘ سے زیادہ اس کی ’’علامات‘‘ کی طرف متوجہ ہیں۔ ’’ بخار‘‘ پر بحث ہو رہی ہے، ’’بخار‘‘ کی وجہ پر نہیں۔ بجٹ پر تبصرے ہو رہے ہیں مگر اشرافیائی تسلط یعنی Elite capture پر مبنی اس سیاسی ومعاشی نظام پر کم ہی بات ہوئی ہے جس نے ملک کی معیشت کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔
پاکستان اس وقت ایک ایسے زیاں کار معاشی گھن چکر میں پھنسا ہوا ہے جس سے نکلنے کی دہائی تو بہت دی جاتی ہے مگر راستہ کم ہی تلاش کیا جاتا ہے۔ شرح نمو کم، آبادی بڑھنے کی رفتار زیادہ، برآمدات جمود کا شکار، زرعی وصنعتی پیداواری صلاحیت محدود اور شرح نمو پریشان کن حد تک کم، قرضوں کا بوجھ مسلسل بڑھتا ہوا اور ٹیکس نیٹ کی وہی تنگ دامنی، کرپشن اور سیاسی مفادات پر مبنی ڈویلپمنٹ کا تسلسل۔
اس طرز کی پولیٹیکل اکانومی کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر حکومت قومی آمدن کے ذرائع بڑھانے کے بجائے ٹیکس بڑھانے اور معیشت کو وسعت دینے کے بجائے نئے قرض لے کر استحکام کا ڈھنڈورا پیٹ کر شانت اور عوام سے داد طلب رہتی ہے۔
ایسے موقعوں پر سرکاری اور عوامی بحث وتمحیص میں آئی ایم ایف کو تقریباً ہر مسئلے کی جڑ قرار دیا جاتا ہے۔ گویا اگر آئی ایم ایف کی دراندازی نہ ہو تو پاکستان کی معیشت فولاد کی طرح توانا ہو جائے تاہم حقیقت اس کے برعکس ہے۔
آئی ایم ایف ’’بیماری‘‘ نہیں، بیماری کا تھرمامیٹر ہے۔ وہ اس وقت آتا ہے جب برآمدات کم ہوں، محصولات ناکافی ہوں، قرضے بڑھ جائیں اور حکومت کے پاس مالیاتی گنجائش ختم ہو جائے۔ تھرمامیٹر تو صرف درجہ حرارت بتاتا ہے، بخار پیدا نہیں کرتا۔
اصل مسئلہ کہیں اور ہے، اور وہ ہے پاکستان کا سیاسی ومعاشی ڈھانچہ۔ معروف ماہرینِ معیشت اور اقتصادی مبصرین میں سے بیشتر کا ایک بنیادی نکتے پر اتفاق ہے کہ پاکستان کا بحران مالیاتی کم اور گورننس کا زیادہ ہے۔ معیشت میں اصلاحات کی ضرورت سب کو معلوم ہے لیکن ان اصلاحات کے راستے میں رنگ برنگے طاقتور مفادات کھڑے ہیں جو اکانومی کو سرنگوں رکھنے میں ہمیشہ کامیاب رہتے ہیں۔
دنیا کی کامیاب معیشتوں پر نظر ڈالیں تو ایک دلچسپ حقیقت سامنے آتی ہے۔ جنوبی کوریا، تائیوان، ویتنام اور انڈونیشیا کی تاریخ، ثقافت اور سیاسی نظام ایک دوسرے سے مختلف تھے لیکن ان میں ایک چیز مشترک تھی، ان ریاستوں نے کسی نہ کسی مرحلے پر یہ فیصلہ کیا کہ قومی وسائل کا رخ پیداوار، برآمدات اور انسانی ترقی یعنی ہیومن ڈویلپمنٹ کی طرف موڑنا ہے۔
جنوبی کوریا 1960کی دہائی میں پاکستان سے زیادہ خوشحال نہیں تھا۔ ویتنام کئی دہائیوں تک جنگ کا شکار رہا۔ تائیوان ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے جس کے پاس محدود وسائل تھے۔ انڈونیشیا 1997کے مالیاتی بحران میں تقریباً زمین بوس ہو گیا تھا لیکن ان ممالک نے اپنی پولٹیکل اکانومی کی سمت درست کی اور بتدریج ایسے معاشی وسماجی ادارے تشکیل دیئے جو دولت پیدا (wealth creation)کرنے والے شعبوں کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔
اس کے برعکس پاکستان میں پولیٹیکل اکانومی کا ارتقاء مختلف سمت میں ہوا۔ یہاں ریاست، سیاست اور معیشت کے درمیان ایک ایسا تعلق پیدا ہوا جس میں طاقت اور وسائل کا ارتکاز چند حلقوں کے لیے مخصوص ہو کر رہ گیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اشرافیہ کی شکلیں بدلتی رہیں مگر ان کا مراعاتی ڈھانچہ برقرار رہا۔ نتیجتاً اصلاحات کی بات تو بہت ہوئی مگر ان کے نفاذ کی سیاسی قیمت ادا کرنے کے لیے کوئی تیار نہ ہوا۔
یہاں ایک اور حقیقت بھی قابل غور ہے۔ پاکستان میں تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتیں جمہوریت کی علمبردار ہیں لیکن ان کے اپنے اندر جمہوری روایت کتنی مضبوط ہے؟ بیشتر جماعتیں خاندانی یا شخصیت پر مبنی ڈھانچے رکھتی ہیں۔
قیادت محدود حلقوں میں منتقل ہوتی ہے اور فیصلہ سازی بھی چند ہاتھوں میں مرتکز رہتی ہے۔ ایسے ماحول میں پالیسی کا افق بھی محدود ہو جاتا ہے۔ نئی قیادت، نئے خیالات اور مقامی سطح سے ابھرنے والے متبادل امکانات وقت کے ساتھ ساتھ مزید کمزور پڑ جاتے ہیں۔
اس سے جڑا ہوا ایک اور پہلو مقامی حکومتوں کا ہے۔ دنیا کے کامیاب ممالک میں مقامی حکومتیں ترقی، احتساب اور عوامی شرکت کا اہم ذریعہ ہیں مگر پاکستان میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے میں دلچسپی نہیں دکھاتیں۔
مقامی حکومتیں یا تو معطل رہتی ہیں یا محدود اختیارات کے ساتھ انھیں ’’بے اختیار‘‘ کر دیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ اختیارات اوپر جمع ہوتے جاتے ہیں اور مسائل نیچے بڑھتے جاتے ہیں۔ یہ ایک بنیادی ’’گورننس ڈیفیسٹ‘‘ ہے جس کی نشاندہی متعدد ماہرین کرتے ہیں۔
معروف اکانومسٹ اور سابق گورنر اسٹیٹ بینک شاہد کاردار برسوں سے ایک اور اہم نکتہ اٹھاتے آئے ہیں کہ پاکستان کی اصل کمزوری کم پیداواری صلاحیت یعنی productivity ہے۔
ہم دولت پیدا کرنے کی رفتار سے زیادہ تیزی سے دولت تقسیم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تعلیم، مہارت، تحقیق، زرعی جدت اور صنعتی مسابقت وہ شعبے ہیں جہاں مسلسل سرمایہ کاری درکار تھی مگر ہماری حکومتوں کی توجہ بالعموم قلیل مدتی انتظامات اور اقدامات پر مرکوز رہی۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان اپنے پولیٹیکل اکانومی کے ڈھانچے کو اس انداز میں تبدیل کر سکتا ہے جہاں دولت پیدا کرنا مراعات حاصل کرنے سے زیادہ منافع بخش ہو؟ جہاں اختیارات چند ہاتھوں میں مرتکز ہونے کے بجائے مقامی سطح تک منتقل ہوں؟
جہاں سیاسی جماعتیں اندر سے بھی اتنی ہی جمہوری ہوں جتنی وہ ریاست کو بنانا چاہتی ہیں؟ اور جہاں معیشت کا مرکز قرض اور کھپت یعنی consumption نہیں بلکہ پیداوار اور برآمدات ہوں؟
حاصل کلام یہ ہے کہ اگر ان بنیادی سوالات اور حقائق پر غور نہ کیا گیا اور جاری پولیٹیکل اکانومی کی سمت اور ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں ممکن نہ بنائی جا سکیں تو دائروں کا یہ سفر ایسے ہی جاری رہے گا۔
ہر سال بجٹ آئے گا، بڑھتے خساروں کا رونا رویا جائے گا، آئی ایم ایف کا ذکر ہوگا، نئے ٹیکس لگیں گے اور ہم سادہ لوح یہی پوچھ رہے ہوں گے کہ معیشت سنبھل کیوں نہیں رہی۔ جواب وہی ہوگا جو آج ہے: مسئلہ بجٹ کا نہیں ، اس نظام کا ہے جو ہر بحران کے بعد خود کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔