ایران کے منجمد 24 ارب ڈالر خطرے میں؟ امریکا کا خلیجی اتحادیوں کے جنگی نقصانات کے ازالے کا منصوبہ
واشنگٹن: امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا منجمد ایرانی اثاثوں کو خلیجی ممالک کی تعمیر نو اور ممکنہ جنگی نقصانات کے ازالے کے لیے استعمال کرنے کے منصوبے پر غور کر رہا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اپنی ٹیم کو ہدایت دی ہے کہ وہ خلیجی اتحادی ممالک کو پہنچنے والے نقصانات کا جائزہ لے اور یہ بھی دیکھے کہ آیا منجمد ایرانی اثاثوں کو ان نقصانات کے ازالے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ واشنگٹن مستقبل میں ایران کی جانب سے خلیجی ممالک کو پہنچنے والے کسی بھی ممکنہ نقصان کی صورت میں بھی انہی اثاثوں کو تعمیر و مرمت کے اخراجات کے لیے استعمال کرنے پر غور کر رہا ہے۔
امریکی اخبار نیویارک پوسٹ اور نشریاتی ادارے فاکس نیوز نے بھی اسی حوالے سے رپورٹس شائع کی ہیں۔ ذرائع کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ تمام دستیاب قانونی اور مالیاتی ذرائع استعمال کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے تاکہ ایرانی اثاثوں کو خلیجی اتحادی ممالک کی مدد کے لیے بروئے کار لایا جا سکے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ کسی بھی ممکنہ امن معاہدے کے لیے تقریباً 24 ارب ڈالر کے منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی ایک اہم شرط ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکا واقعی ایرانی اثاثوں کو خلیجی ممالک کی تعمیر نو یا جنگی نقصانات کے ازالے کے لیے استعمال کرنے کی جانب بڑھتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی کوششوں پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، تاہم میڈیا رپورٹس نے خطے میں اس موضوع پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔