مولانا فضل الرحمان نے گلگت بلتستان کے انتخابی نتائج کو مسترد کردیا

مولانا کی مشترکہ پریس کانفرنس، وفاق سے امن و امان سمیت دیگر معاملات پر تمام جماعتوں کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ

جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے گلگت بلتستان کے انتخابی نتائج کو مسترد کردیا۔

پشاور میں مفتی محمود مرکز پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ گلگت بلتستان میں جو الیکشن ہوئے نتائج کو مسترد کرتے پیں۔

انہوں نے کہا کہ وفاق امن و امان سمیت دیگر معاملات پر تمام جماعتوں کو اعتماد میں لے، اس طرح کچھ پیشرفت ہوگی اور بات آگے بڑھے گی۔ 

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وزیراعلیٰ سے گفتگو کے دوران بہت سے نکات ہمارا اتفاق رائے ہوا ہے، این ایف سی صوبوں کا آئینی حق ہے جو پارلیمنٹ سے اتفاق رائے سے پاس ہوا، صوبائی حقوق کی خودمختاری ہر صوبے کو یقینی بنانا چاہیے اور کوئی بھی وسائل پر قبضہ نہیں کرسکتا۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کا مسئلہ اور مخدوش صورتحال ہے، جنوبی اضلاع میں امن و امان کی خراب صورتحال ہے، عوام مسلح گروہ کے رحم و کرم پر ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وفاق کی سطح پر دینی مدارس رجسٹریشن کا قانون منظور ہوچکا ہے صوبائی حکومت من و عن نافذ کرائے۔

انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں کو صوبوں میں ضم کرنے کا اعلان کیا گیا مگر مکمل ضم نہیں کیا گیا، قبائل میں کوئی نظام موجود نہیں ہے، قبائلی علاقوں میں حدود کا مسلہ ابھی تک حل نہیں ہوسکا۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ بجٹ عوام کا ہے اور خیبر پختونخوا نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا، بجٹ سے قبل ناراضی ہوتی ہے مگر معاملہ حل ہوجائے گا، یہ اختلافات یا ناراضی بغاوت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبے کے حقوق اور مسائل پر مولانا فضل الرحمن سے بات کی، کے پی کے ساتھ این ایف سی میں وفاق سوتیلی ماں جیسا سلوک کررہا ہے، آئین کے مطابق این ایف سی چاروں صوبوں میں تقسیم ہونا چاہیے مگر قبائلی علاقوں کے انضمام کے باوجود خیبرپختونخوا کو اس کا حق نہیں دیا جارہا۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے گندم کو روکا جارہا ہے، ہم نے اتفاق کیا ہے کہ گندم پر پابندی کے خلاف مشرکہ آواز اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 500 ایم ایم سی ایف ڈی گیس پیدا کررہے ہیں اور ضرورت 150 ہے۔

Load Next Story