سلامتی کونسل اجلاس، پاکستان نے طالبان سے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کر دیا
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں افغانستان کی صورتحال پر پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے تفصیلی بیان دیتے ہوئے افغانستان سے سرحد پار دہشت گردی، طالبان کی ناکامیوں اور علاقائی سلامتی کے خدشات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
سفیر عاصم افتخار نے یو این اے ایم اے کی قائم مقام خصوصی نمائندہ جارجیٹ گیگنن، نائب سربراہ اور دیگر حکام کی بریفنگز پر شکریہ ادا کرتے ہوئے سیکریٹری جنرل کی رپورٹ کا نوٹس لیا۔
انہوں نے کہا کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے تقریباً نصف دہائی بعد بھی افغانستان نہ تو مکمل امن کی طرف بڑھ سکا ہے اور نہ ہی اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ پائیدار استحکام حاصل کر پایا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ توقع تھی طالبان ایک ذمہ دار حکومت کے طور پر اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کریں گے اور افغانستان کو استحکام و ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے تاہم ایسا نہ ہو سکا۔
ان کے مطابق افغانستان طویل عرصے سے دہشت گرد تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے جس کے اثرات پاکستان سمیت پورے خطے پر پڑ رہے ہیں۔
سفیر نے کہا کہ ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور اس کی مجید بریگیڈ، داعش خراسان (ISIL-K)، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ETIM) اور دیگر گروہ افغانستان کی سرزمین سے سرگرم ہیں جن کے خلاف مؤثر اور قابلِ تصدیق کارروائیاں نہیں کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال پاکستان کے لیے سنگین سکیورٹی چیلنج بن چکی ہے۔
پاکستانی مندوب کے مطابق حالیہ عرصے میں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں خطرناک اضافہ ہوا ہے۔
صرف 2025 کے دوران 5300 سے زائد دہشت گرد حملے ہوئے جن میں 1200 سے زیادہ افراد جان سے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ 9 مئی کو خیبر پختونخوا میں پولیس چوکی پر VBIED حملے میں 15 اہلکار شہید ہوئے جس کی منصوبہ بندی افغانستان میں موجود عناصر نے کی۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گرد گروہوں کو جدید ہتھیاروں اور ڈرونز تک رسائی حاصل ہے جن میں وہ اسلحہ بھی شامل ہے جو افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے دوران چھوڑا گیا تھا۔ اب تک انسداد دہشت گردی کارروائیوں میں ایسے ہتھیاروں کی ضبطی کے 290 سے زائد واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔
سفیر نے کہا کہ طالبان کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کی کھلی مذمت سے گریز اور ان سے لاتعلقی نہ اختیار کرنا شدید تشویش کا باعث ہے جو ان گروہوں کے ساتھ ممکنہ ملی بھگت کی نشاندہی کرتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر دفاع کا حق رکھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتکاری کو ترجیح دی اور اس سلسلے میں قطر، ترکیہ، سعودی عرب اور چین سمیت دوست ممالک کے کردار کو سراہا تاہم طالبان کی مسلسل ہٹ دھرمی صورتحال کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں بعض اوقات افغانستان کے مسائل کی ذمہ داری بیرونی عوامل پر ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے جبکہ اندرونی حقائق اور طالبان کی پالیسیوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں غیر قانونی معیشت، منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت جیسے پہلوؤں کو بھی مناسب طور پر شامل نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں انسانی بحران کی بنیادی وجہ طالبان کی ناکام پالیسیاں ہیں۔ 2026 کے انسانی امدادی منصوبے کے لیے صرف 14 فیصد فنڈنگ کی دستیابی صورتحال کی سنگینی ظاہر کرتی ہے۔
سرحدی بندش کے حوالے سے پاکستان نے واضح کیا کہ سرحدی بندش انسانی امداد کی ترسیل میں رکاوٹ نہیں بنتی پاکستان امدادی سامان کی ترسیل جاری رکھے ہوئے ہے تاہم بعض اوقات افغان حکام کی جانب سے خود امدادی کھیپوں کو داخلے کی اجازت نہیں دی جاتی۔
انہوں نے افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ خواتین اور لڑکیوں کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے جو نہ صرف بین الاقوامی قوانین بلکہ اسلامی اصولوں کے بھی منافی ہے۔
پاکستانی مندوب نے بتایا کہ چار دہائیوں میں پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی لیکن یہ مستقل بندوبست نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے اقوامِ متحدہ سے افغان شہریوں کی تیسرے ممالک میں آبادکاری کے معاملات پر شفافیت کا مطالبہ بھی کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان دوحہ عمل اور موزیک ایکشن پلان کا منتظر ہے تاکہ افغانستان کے مسائل کا جامع حل نکالا جا سکے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغانستان میں امن سے خطے کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔
آخر میں انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا مطالبہ سادہ اور دوٹوک ہے: طالبان دہشت گرد گروہوں کے خلاف قابل تصدیق اور مستقل کارروائیاں کریں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اس مقصد کے لیے وقت تیزی سے محدود ہو رہا ہے تاہم ابھی بھی موقع موجود ہے کہ طالبان مثبت راستہ اختیار کریں اور افغان عوام کے مفاد میں بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعاون کریں۔