فلپائن میں زلزلے کے بعد لینڈ سلائیڈنگ اور 200 سے زائد آفٹر شاکس، ہلاکتیں 35 تک پہنچ گئیں
فلپائن کے جنوبی جزیرے منڈاناؤ کے قریب سمندر میں آنے والے 7.8 شدت کے طاقتور زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں کم از کم 35 افراد ہلاک اور 134 زخمی ہوگئے، جبکہ متعدد افراد اب بھی لاپتا ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق زلزلہ صبح سویرے صوبہ سرنگانی کے جنوب میں سمندر کے اندر آیا، جس کے جھٹکے فلپائن کے مختلف علاقوں سمیت پڑوسی ملک انڈونیشیا تک محسوس کیے گئے۔ زلزلے کے باعث کئی عمارتیں، مکانات اور تجارتی مراکز منہدم ہوگئے جبکہ بعض علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات بھی پیش آئے۔
سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقے گلان میں پہاڑ کے دامن میں واقع متعدد گھروں پر مٹی کا تودہ گرنے سے 14 افراد جاں بحق ہوگئے۔ مقامی حکام کے مطابق زلزلے کے فوراً بعد لینڈ سلائیڈنگ ہوئی جس نے کئی خاندانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
جنرل سانتوس شہر میں کم از کم 12 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ امدادی کارکن ایک منہدم گروسری اسٹور کے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے مسلسل امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بعض مقامات پر ریسکیو اہلکاروں کو ہاتھوں سے ملبہ ہٹانا پڑ رہا ہے۔
فلپائن کے قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ادارے کے مطابق متعدد افراد تاحال لاپتا ہیں جبکہ فوج اور ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں سرچ آپریشن میں مصروف ہیں۔
زلزلے کے بعد 200 سے زائد آفٹر شاکس ریکارڈ کیے گئے جن میں سب سے شدید جھٹکا 6.7 شدت کا تھا۔ مسلسل آفٹر شاکس کے باعث حکام کو عمارتوں کے حفاظتی معائنے میں مشکلات کا سامنا ہے اور مزید عمارتوں کے گرنے کا خدشہ برقرار ہے۔
بجلی کی بندش اور مواصلاتی نظام کی خرابی نے امدادی سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے۔ کئی علاقوں میں لوگ خوف کے باعث رات کھلے آسمان تلے گزارنے پر مجبور ہیں۔
فلپائن کے صدر فرڈینینڈ مارکوس جونیئر نے منڈاناؤ بھر میں تعلیمی ادارے بند کرنے کا حکم دیتے ہوئے فوری ہنگامی امدادی کارروائیوں کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
زلزلے کے بعد بحرالکاہل سونامی وارننگ سینٹر نے ابتدائی طور پر فلپائن، انڈونیشیا، تائیوان، پلاؤ اور پاپوا نیو گنی کے ساحلی علاقوں کے لیے سونامی الرٹ جاری کیا تھا، تاہم بعد میں صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد متعلقہ ادارے مسلسل نگرانی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق منڈاناؤ اور اس کے اطراف کا علاقہ بحرالکاہل کے "رِنگ آف فائر" میں واقع ہے، جہاں زلزلے اور آتش فشانی سرگرمیاں معمول کا حصہ سمجھی جاتی ہیں۔