وزارت آئی ٹی ڈیمانڈ کے مطابق ترقیاتی بجٹ حاصل کرنے میں کامیاب
فوٹو: فائل
اسلام آباد: وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے اپنی مجموعی ڈیمانڈ کے مطابق مکمل ترقیاتی بجٹ حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کر لی۔
وزیر مملکت برائے آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ نے سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وزارت کے ترقیاتی بجٹ میں کسی قسم کی کٹوتی نہیں کی گئی اور حکومت نے آئی ٹی سیکٹر کی ترقی پر واضح فوکس برقرار رکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم، وزارت خزانہ اور منصوبہ بندی ڈویژن کی ترجیحات میں آئی ٹی کا شعبہ سرفہرست ہے جس کے باعث دیگر وزارتوں کے بجٹ میں کمی کے باوجود آئی ٹی کا بجٹ برقرار رکھا گیا ہے۔
شزہ فاطمہ کے مطابق وزارت آئی ٹی کے لیے 22 ارب روپے کی طلب مکمل طور پر منظور ہونے کی توقع ہے جبکہ طویل المدتی منصوبوں سمیت مجموعی ترقیاتی بجٹ کا حجم 76 ارب روپے تک پہنچتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ترقیاتی بجٹ میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تربیت، اسٹارٹ اپس کی معاونت اور ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ کے لیے خصوصی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔
یو ایس ایف فنڈز کے ذریعے دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ اور کنیکٹیویٹی کو بہتر بنانے پر بھی کام جاری ہے، جبکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں رابطوں کی بہتری کو ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔
وزیر مملکت نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اور ارلی وارننگ سسٹمز کے لیے ڈیجیٹل رابطہ کاری کو فروغ دیا جا رہا ہے، تاکہ بروقت معلومات کی فراہمی ممکن ہو سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے برانڈ امیج کو عالمی سطح پر مضبوط بنانے کے لیے بھی مختلف اقدامات جاری ہیں، جبکہ اے آئی پالیسی پر تیزی سے عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔
شزہ فاطمہ کے مطابق رواں سال 9 لاکھ افراد کو ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت فراہم کی گئی ہے، جبکہ یونیورسٹی طلبہ کی بیس لائن ٹیسٹنگ بھی مکمل کر لی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل پاکستان کے وژن پر تیزی سے پیش رفت جاری ہے اور نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔