پیپلزپارٹی کےلامحدود مالی وسائل کےمقابلے میں فنڈر نہ ہونے کے باعث ن لیگ گلگت میں پیچھے رہی، سعد رفیق

سنگل لارجسٹ پارٹی بن جانے کے باوجود پیپلز پارٹی کی جانب سے مصدقہ نتائج نہ ملنے کا بیانیہ حیرت ناک ہے

سابق وفاقی وزیر اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے سوشل میڈیا پر بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ نظام کے مخالف پی ٹی آئی کے بہت سے ووٹرز نے بھی PTI کو انتخابی میدان میں موجود نہ پا کر مسلم لیگ ن کی بجائے پیپلز پارٹی کو ووٹ دیا۔

 

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے انتخابات میں لگ بھگ دس نشستیں جیت لینے کے باعث پیپلز پارٹی ایوان میں سب سے بڑی جماعت بن گئی ہے، سنگل لارجسٹ پارٹی بن جانے کے باوجود PPP کی جانب سے مصدقہ نتائج نہ ملنے کا بیانیہ حیرت ناک ہے۔

موجودہ نظام کے مخالف پی ٹی آئی کے بہت سے ووٹرز نے بھی PTI کو انتخابی میدان میں موجود نہ پا کر مسلم لیگ ن کی بجائے پیپلز پارٹی کو ووٹ دیا۔

میری ناقص رائے میں PTI کا بطور ایک سیاسی جماعت الیکشن لڑنا انتخابی عمل کو زیادہ معتبر بنا سکتا تھا جس کا اظہار میں نے جنید اکبر صاحب اور اسد قیصر صاحب کو GB نہ جانے دینے پر برملا کر دیا تھا۔

مسلم لیگ ن کی ٹیم نے مختصر عرصے میں بہترین کام کیا لیکن پیپلز پارٹی کے لامحدود مالی وسائل کے مقابلے میں پارٹی فنڈر نہ ہونے کے باعث پیچھے رہ گئے۔

ہمارے سفید پوش امیدواروں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور تقریباً ھر حلقے میں متاثر کُن ووٹ حاصل کیے ، ان انتخابات نے GB میں مسلم لیگ کو ایک بار پھر مستحکم جماعت کے طور پر کھڑا کر دیا ھے۔

مجھے آٹھ روزہ دورے کے دوران کارکنان میں ایک نیا جذبہ اور جنون دیکھنے کو ملا ہے، اسے زندہ رکھنا اور آگے بڑھانا مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت کی ذمہ داری ہے۔

وسائل کی عدم دستیابی ، تاخیر سے کیے گئے فیصلے اور کمزور تنظیمی ڈھانچہ مسلم لیگی قیادت کیلئے لمحۂِ فکریہ ہے،  گلگت بلتستان میں حکومت بنانے کا پہلا حق PPP کو حاصل ہے۔

اگر پیپلز پارٹی کی حکومت بنی تو میری رائے کے مطابق مسلم لیگ ن کو حکومت سازی میں پیپلز پارٹی سے تعاون کرنا چاہیے اور خود حکومت کا حصہ بننے کی بجائے اپوزیشن میں بیٹھنا چاہیے اور آئینی پوزیشنز حاصل کرنے پر اکتفا کرنا چاہیے۔

گلگت بلتستان نہایت اہم ، حساس ، اسٹرٹیجک ، قدرتی وسائل سے مالا مال مگر محرومیوں کا شکار خطہ ہے، اس کی پائیدار تعمیر و ترقی کیلئے گلگت بلتستان اسمبلی اتفاق رائے اور وفاقی حکومت کی مشاورت سے میثاق ِ گلگت بلتستان تشکیل دے۔

کوئی حکومت GB کو پانچ برس میں نہیں بدل سکتی چنانچہ اگلے بیس برس کا لانگ ٹرم منصوبہ بنانے کے لیے حکومت اور اپوزیشن ملکر GB کی تعمیر و ترقی کے نئے چارٹر کے خدو خال تشکیل دیں۔

Load Next Story