آبنائے ہرمز کا نام ’ہرمز‘ کیسے پڑا، حیرت انگیز تاریخ
حالیہ ایران اور امریکی اسرائیل کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز دنیا کے پردے پر اچھی خاصی اہمیت حاصل کرچکا ہے لیکن آخر اسے ہرمز کیوں کہا جاتا ہے یا اس کے پیچھے تاریخ کیا ہے، اس سے بہت کم لوگ واقف ہیں۔
دراصل "ہرمز" کا لفظ قدیم فارسی زبان کے لفظ "اہورا مزدا" (Ahura Mazda) سے ماخوذ ہے جو زرتشتی مذہب میں قادرِ مُطلق اور عظیم ترین حکمت کے حامل خدا کا نام ہے۔
وقت کے ساتھ یہ نام مختصر ہو کر "ہرمز" یا "ہرمزد" بن گیا۔
دوسری جانب چونکہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے، تو کچھ مؤرخین کا خیال ہے کہ جزیرہ ہرمز قدیم بندرگاہی ریاست "مملکتِ ہرمز" سے منسوب ہے جو قرونِ وسطیٰ میں خلیج فارس کی تجارت کا ایک بڑا مرکز تھی۔ یہ ریاست موجودہ ایران کے جنوبی ساحل اور جزیرہ ہرمز کے گرد قائم تھی۔
15ویں اور 16ویں صدی میں مملکتِ ہرمز اتنی خوشحال تھی کہ اسے خلیج فارس کا "موتیوں کا تاج" کہا جاتا تھا۔ بعد میں پرتگال نے اس علاقے پر قبضہ کیا لیکن "ہرمز" کا نام برقرار رہا اور بالآخر اسی نام سے آبنائے ہرمز مشہور ہو گئی۔