آبنائے ہرمز میں امریکی فوجی ہیلی کاپٹر تباہ؛ دنیا کا پہلا روبوٹک ڈرون ریسکیو آپریشن
عمان کے ساحل پر امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا
آبنائے ہرمز میں ایران کے ساتھ کشیدگی کے دوران عمان کے ساحل کے قریب امریکی فوج کا اپاچی ہیلی کاپٹر سمندر میں گر گیا جس کی تحقیقات شروع کردی گئی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حادثہ روزانہ کی معمول کے گشت کے دوران پیش آیا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہیلی کاپٹر میں دو اہلکار سوار تھے جنھیں حادثے کے تقریباً دو گھنٹے کے اندر اندر ریسکیو آپریشن کے ذریعے بحفاظت سمندر سے نکال لیا گیا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ دونوں اہلکاروں کی حالت مستحکم ہے اور انھیں ضروری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے تاہم ہیلی کاپٹر سمندر میں ڈوب گیا۔
امریکی فوجی حکام نے اس حیران کن ریسکیو آپریشن کے بارے میں سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ ہیلی کاپٹر میں موجود دونوں اہلکاروں کو ایک بغیر پائلٹ سطحِ آب ڈرون کے ذریعے بچایا گیا۔
انھوں نے مزید بتایا کہ یہ Unmanned Surface Drone امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے تحت بحرین میں قائم خصوصی یونٹ ٹاسک فورس 59 کے زیر استعمال ہے۔
امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ پہلا موقع تھا کہ کسی ڈرون کو سمندر میں ریسکیو آپریشن کے لیے استعمال کیا گیا۔ دونوں اہلکاروں کو بحفاظت نکال لیا گیا اور ان کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے۔
تاحال حادثے کی اصل وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔ امریکی فوج نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا آغاز کر دیا تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ ہیلی کاپٹر تکنیکی خرابی، موسمی حالات یا کسی اور وجہ سے حادثے کا شکار ہوا۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی صحافیوں سے گفتگو میں تصدیق کی کہ ہیلی کاپٹر حادثے کے شکار دونوں اہلکار خیریت سے ہیں اور ان کی حالت تشویشناک نہیں ہے۔
یاد رہے کہ خلیج عمان اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی سرگرمیاں جاری ہیں اور خطے میں سیکیورٹی صورتحال پر عالمی توجہ مرکوز ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد حادثے سے متعلق مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔