افغانستان میں پھنسے پاکستانی ٹرانسپورٹرز کی واپسی کے لیے طورخم بارڈر کے نئے اوقات کار جاری

صبح 8 بجے سے دوپہر 2 بجے تک افغانستان سے واپس آنے والے پاکستانی ٹرانسپورٹرز کی واپسی کو یقینی بنایا جائے گا


اسٹاف رپورٹر June 09, 2026

پشاور:

افغانستان میں پھنسے پاکستانی ٹرانسپورٹرز کی واپسی کے لیے طورخم بارڈر پر آمد و رفت کے لیے نئے اوقات کار مقرر کردیے گئے، صبح 8 بجے سے دوپہر 2 بجے تک افغانستان سے واپس آنے والے پاکستانی ٹرانسپورٹرز کی واپسی کو یقینی بنایا جائے گا۔

اس ضمن میں کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود کی زیر صدارت افغانستان میں پھنسے پاکستانی ٹرانسپورٹرز کی وطن واپسی، سرحد پار ٹرانسپورٹ کے نظام کو مزید محفوظ اور مؤثر بنانے، اور روزانہ افغانستان جانے والے ٹرانسپورٹرز کو سہولت فراہم کرنے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں افغان قونصل جنرل حافظ محب اللہ صاحب، لیفٹیننٹ کرنل محمد عارف (فرنٹیئر کور) ڈپٹی کمشنر ضلع خیبر کیپٹن (ر) بلال راؤ، ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے نمائندہ وفد اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے عمل میں مصروف پاکستانی ٹرانسپورٹرز کو درپیش مسائل، خصوصاً افغانستان سے ان کی باعزت، محفوظ اور بروقت واپسی کو یقینی بنانے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی غور کیا گیا۔

شرکاء نے تقریباً آٹھ ماہ سے افغانستان میں پھنسے 1600 کے قریب پاکستانی گاڑیوں، ان کے ڈرائیورز اور کنڈیکٹرز کو درپیش مشکلات پر تشویش کا اظہار کیا اور ان کے فوری حل کی ضرورت پر زور دیا۔ اجلاس میں باہمی مشاورت سے فیصلہ کیا گیا کہ طورخم بارڈر کے ذریعے ٹرانسپورٹرز کی آمد و رفت کو منظم بنانے کے لیے اوقات کار مختص کیے جائیں گے۔

اس سلسلے میں صبح 8 بجے سے دوپہر 2 بجے تک افغانستان سے واپس آنے والے پاکستانی ٹرانسپورٹرز کی واپسی کو یقینی بنایا جائے گا، جبکہ دوپہر 2 بجے سے رات 8 بجے تک پاکستان سے افغانستان جانے والی گاڑیوں کی روانگی کا عمل جاری رکھا جائے گا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود نے ڈپٹی کمشنر ضلع خیبر کو ہدایت کی کہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر فوری عملدرآمد کے لیے تمام متعلقہ اداروں کا مشترکہ اجلاس طلب کیا جائے اور مقررہ اوقات کار کے مطابق بارڈر مینجمنٹ کا نیا نظام فوری طور پر نافذ کیا جائے۔

کمشنر پشاور ڈویژن نے کہا کہ حکومت پاکستانی ٹرانسپورٹرز کے تحفظ، سہولت اور باعزت واپسی کو یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور اس ضمن میں افغان حکام اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔