حجاز ریلوے کی واپسی قریب؟ سعودی عرب اور ترکیے کے تاریخی معاہدے نے نئی امید جگا دی

ترکیہ پہلے ہی شام کی سرحد کے قریب ان ریلوے لائنوں کی بحالی کا آغاز کر چکا ہے جو گزشتہ تقریباً 15 برس سے بند پڑی تھیں

ریاض: سعودی عرب اور ترکیے نے ریلوے اور لاجسٹکس کے شعبوں میں تعاون کے لیے اہم مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کر دیے ہیں، جنہیں تاریخی حجاز ریلوے کی بحالی کی جانب ایک بڑی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

سعودی میڈیا کے مطابق ریاض میں ہونے والی تقریب میں سعودی وزیر ٹرانسپورٹ و لاجسٹکس صالح الجاسر اور ترکیے کے وزیر ٹرانسپورٹ و انفراسٹرکچر عبدالقادر اوغلو نے مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے۔

رپورٹس کے مطابق یہ معاہدے ایک وسیع علاقائی منصوبے کا حصہ ہیں، جس کا مقصد ترکیے، شام اور اردن کے ذریعے خلیجی ممالک کو یورپ سے جوڑنے والی جدید زمینی تجارتی راہداری قائم کرنا ہے۔ اس منصوبے سے خطے میں تجارت، سیاحت اور نقل و حمل کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔

سعودی میڈیا کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں ترکیے، شام اور اردن کے درمیان ہونے والے رابطوں کے نتیجے میں سرحد پار ریلوے اور ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے ایک مشترکہ روڈ میپ تیار کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت آئندہ چار سے پانچ سال میں اہم ریلوے رابطوں کو دوبارہ فعال بنانے پر کام کیا جائے گا۔

ترکیہ پہلے ہی شام کی سرحد کے قریب ان ریلوے لائنوں کی بحالی کا آغاز کر چکا ہے جو گزشتہ تقریباً 15 برس سے بند پڑی تھیں۔

منصوبے کے مطابق ریلوے نیٹ ورک ترکیے سے جنوبی یورپ تک جائے گا اور پھر شام کے اہم شہروں حلب اور دمشق سے گزرتے ہوئے اردن کے دارالحکومت عمان اور بحیرہ احمر کی بندرگاہ عقبہ تک پہنچے گا۔

اس راہداری کا مقصد یورپ اور خلیجی ممالک کے درمیان سامان اور مسافروں کی نقل و حمل کے لیے ایک تیز، کم خرچ اور مؤثر متبادل فراہم کرنا ہے۔

ترک وزیر ٹرانسپورٹ عبدالقادر اوغلو نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ تاریخی حجاز ریلوے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں اسے سلطنت عمان تک توسیع دینے کا بھی منصوبہ زیر غور ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے بحر ہند تک براہِ راست رسائی حاصل ہوگی اور یہ آبنائے ہرمز کے متبادل تجارتی راستے کے طور پر بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

واضح رہے کہ حجاز ریلوے سلطنت عثمانیہ کے دور میں خلیفہ سلطان عبدالحمید ثانی کے حکم پر 1900 سے 1908 کے درمیان تعمیر کی گئی تھی۔ یہ منصوبہ اپنے وقت کے سب سے بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں میں شمار ہوتا تھا اور اس کا مقصد استنبول کو مدینہ منورہ سے ریلوے کے ذریعے جوڑنا تھا۔

تاریخ دانوں کے مطابق اس منصوبے کو اس دور میں برطانیہ اور فرانس کی مخالفت کا بھی سامنا رہا تھا کیونکہ اسے خطے میں عثمانی اثر و رسوخ کو مضبوط کرنے کی کوشش سمجھا جاتا تھا۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ منصوبہ مکمل ہوتا ہے تو یہ نہ صرف تاریخی حجاز ریلوے کی بحالی ہوگی بلکہ مشرق وسطیٰ، خلیجی ممالک اور یورپ کے درمیان تجارتی روابط کو بھی نئی جہت ملے گی۔

Load Next Story