افغان شہریوں کو مبینہ طور پر پاکستانی پاسپورٹس جاری کرنے کے معاملے میں 3 افراد کے خلاف مقدمہ درج

ایف آئی آر کے مطابق مجموعی طور پر 72 پاسپورٹس جاری کیے گئے

ایف آئی اے کاؤنٹر ٹیررازم ونگ نے افغان شہریوں کو مبینہ طور پر پاکستانی پاسپورٹس جاری کرنے کے معاملے میں ذمہ دار افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

درج ایف آئی آر کے مطابق عوامی مرکز پاسپورٹ آفس کے تین اہلکاروں کو نامزد کیا گیا ہے۔ ایف آئی اے کا مؤقف ہے کہ گرفتار سپرنٹنڈنٹ فاروق سیال اور دیگر نامزد ملزمان نے افغان شہریوں کی جانب سے جعلسازی کے ذریعے حاصل کی گئی دستاویزات کی بنیاد پر پاکستانی پاسپورٹس جاری کیے۔

ایف آئی آر کے مطابق مجموعی طور پر 72 پاسپورٹس جاری کیے گئے، جن میں سے 53 پاسپورٹس کے اجرا کے لیے فاروق سیال نے کارروائی کی جبکہ 19 پاسپورٹس پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر باقر رضا نے کارروائی کی۔

تحقیقاتی ریکارڈ کے مطابق فاروق سیال نے بیان دیا کہ غیر ملکیوں کو پاسپورٹس جاری کرنے کے عوض ایجنٹس کے ذریعے فی کس ڈیڑھ لاکھ سے تین لاکھ روپے تک وصول کیے جاتے تھے۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ پاسپورٹس کے اجرا کے لیے مروجہ طریقہ کار کی خلاف ورزی کی گئی اور غیر ملکیوں کی شہریت و قومیت سے متعلق حقائق کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا گیا۔ 72 پاسپورٹس کے ریکارڈ کی جانچ کے دوران منظم بے ضابطگیوں، ہیرا پھیری اور جعلی دستاویزات کے استعمال کے شواہد بھی سامنے آئے۔

تحقیقات میں بعض کیسز میں نادرا فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹس، درخواست گزاروں کی تصاویر اور دیگر معاون دستاویزات میں بھی بے ضابطگیاں پائی گئیں۔

ایف آئی آر کے مطابق غیر ملکیوں کو پاکستانی پاسپورٹس جاری کرنے کے معاملے میں پاسپورٹ آفس کے اہلکاروں، غیر ملکیوں، سہولت کاروں، ایجنٹس اور بعض نادرا اہلکاروں کے درمیان مبینہ ملی بھگت کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔ ایف آئی اے نے مقدمہ درج کر کے مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

Load Next Story