ملک میں 3 لاکھ 66 ہزار ایچ آئی وی کیسز کا انکشاف
وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ملک میں تقریبا 3 لاکھ 66 ہزار ایچ آئی وی کے کیسز سامنے آچکے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی اجلاس میں وفاقی وزیر قومی صحت مصطفیٰ کمال نے ملک بھر میں بالخصوص بچوں میں ایچ آئی وی/ایڈز کے کیسز میں اضافے سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر قومی صحت کا کہنا تھا بعض علاقوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ سرنجز کا بار بار اور غیر محفوظ استعمال رہا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ یو این ڈی پی کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں تقریباً 3 لاکھ 66 ہزار افراد ایچ آئی وی کا شکار ہیں، جبکہ ملک بھر کے اے آر ٹی سینٹرز میں 84 ہزار افراد رجسٹرڈ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 2020 میں 37 ہزار افراد کی اسکریننگ کی گئی تھی، جبکہ 2026 میں یہ تعداد بڑھ کر 3 لاکھ 72 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔
وزیر صحت نے کہا کہ ایچ آئی وی سے متعلق رہنمائی اور معلومات کے لیے جلد ہیلپ لائن بھی قائم کی جائے گی۔ سید مصطفی کمال نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں رپورٹ ہونے والے 611 ایچ آئی وی کیسز میں سے صرف 200 کیسز اسلام آباد کے رہائشیوں کے ہیں جبکہ باقی افراد ملک کے دیگر علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایچ آئی وی کا علاج اور ادویات دستیاب ہیں، اس لیے اسے لاعلاج مرض تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔ حکومت ایچ آئی وی/ایڈز کے مسئلے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے، سال2024 میں تونسہ میں ایچ آئی وی کے کیسز کا معاملہ سامنے آیا تھا، تاہم اسلام آباد میں کسی قسم کا آؤٹ بریک نہیں ہوا۔
اجلاس کے دوران قومی اسمبلی نے انٹربورڈز کوآرڈینیشن کمیشن (ترمیمی) بل 2025 اور اسلام آباد کے نجی تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن و انضباط سے متعلق ترمیمی بل 2026 بھی منظور کر لیئے