ناسا کا خلا میں زندگی کی تلاش کیلئے نئی دوربین کا منصوبہ

دوربین کا مقصد زمین جیسے سیاروں کی براہِ راست تصاویر حاصل کرنا اور ایٹماسفیئر کا تجزیہ کرنا ہوگا

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارہ ناسا ایک خلائی دوربین پر کام کر رہا ہے جس کا مقصد قریبی ستاروں کے گرد گردش کرنے والے زمین جیسے سیاروں کی براہِ راست تصاویر حاصل کرنا اور ان کے ایٹماسفیئر سے منعکس ہونے والی روشنی کا تجزیہ کرکے زندگی کے ممکنہ آثار تلاش کرنا ہوگا۔

اگرچہ اس مشن کے آغاز میں ابھی کئی سال باقی ہیں لیکن ڈیزائن سے متعلق کیا انتخاب اس بات کا تعین کرے گا کہ یہ دوربین مستقبل میں کیا کچھ دریافت کر سکے گی۔

اسی سلسلے میں ایک نئی تحقیق (جو arXiv پری پرنٹ سرور پر شائع ہوئی ہے) ایک نہایت اہم سوال کا جواب دیتی ہے کہ اس دوربین کی اسپیکٹرل ریزولوشن کتنی ہونی چاہیے۔

سائنس دانوں نے تفصیلی تجزیے کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ہیبیٹ ایبل ورلڈز آبزرویٹری (ایچ ڈبلیو او) کو کسی دور دراز زمین نما سیارے سے آنے والی روشنی کو کتنی باریکی سے تقسیم کرنا ہوگا تاکہ اس کے ماحول میں موجود حیاتیاتی نشانات کو اعتماد کے ساتھ نشاندہی کی جا سکے۔

یہ سوال بظاہر تکنیکی لگتا ہے لیکن حقیقت میں پورے مشن کی کامیابی اسی پر منحصر ہو سکتی ہے۔

اسپیکٹرل ریزولوشن دراصل یہ بتاتی ہے کہ دوربین روشنی کے ایک دوسرے سے ملتے جلتے رنگوں میں کتنی باریک تفریق کر سکتی ہے۔ زیادہ ریزولوشن کا مطلب ہے ماحول کا زیادہ تفصیلی "فنگر پرنٹ" حاصل کرنا، جس سے آکسیجن، میتھین یا دیگر ممکنہ حیاتیاتی گیسوں کی شناخت آسان ہو جاتی ہے۔

Load Next Story