کوئٹہ سول اسپتال میں چوہوں کی بھرمار؟ وائرل ویڈیو کی حقیقت کیا ہے؟

ویڈیو میں اسپتال کے وارڈ کے اندر چوہوں کو مریضوں اور بستروں کے قریب گھومتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے

سوشل میڈیا پر گزشتہ چند روز سے ایک ویڈیو تیزی سے گردش کر رہی ہے جس میں اسپتال کے وارڈ کے اندر چوہوں کو مریضوں اور بستروں کے قریب گھومتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

ویڈیو کو پاکستان کے شہر کوئٹہ کے سول اسپتال سے جوڑتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ وہاں صفائی کی انتہائی خراب صورتحال ہے، تاہم تحقیقات سے یہ دعویٰ بے بنیاد ثابت ہوا ہے۔

مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، خصوصاً ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور یوٹیوب پر شیئر کی جانے والی 32 سیکنڈ کی اس ویڈیو کے ساتھ کہا گیا کہ یہ بلوچستان کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال سول اسپتال کوئٹہ کی ہے۔ بعض صارفین نے اس فوٹیج کو ’’انتہائی تشویشناک‘‘ قرار دیتے ہوئے حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ بھی کیا۔

تاہم فیکٹ چیک کے دوران معلوم ہوا کہ ویڈیو کا پاکستان یا کوئٹہ کے سول اسپتال سے کوئی تعلق نہیں۔ ریورس امیج سرچ کے ذریعے یہ فوٹیج بھارتی میڈیا اداروں کی رپورٹس میں سامنے آئی، جہاں اس کی اصل لوکیشن بھارت کی ریاست اتر پردیش کے گورنمنٹ میڈیکل کالج گونڈہ کا آرتھوپیڈک وارڈ بتائی گئی۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ویڈیو جنوری 2026 میں منظرعام پر آئی تھی، جس کے بعد اسپتال انتظامیہ نے معاملے کی تحقیقات بھی شروع کر دی تھیں۔ متعدد بھارتی اخبارات اور نیوز پلیٹ فارمز نے اس واقعے کی رپورٹنگ کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ فوٹیج گونڈہ کے سرکاری اسپتال میں ریکارڈ کی گئی تھی۔

فیکٹ چیک سے یہ بھی سامنے آیا کہ وائرل پوسٹس میں پاکستان یا کوئٹہ کے سول اسپتال سے متعلق کوئی مستند ثبوت موجود نہیں تھا۔ اس کے باوجود ویڈیو کو غلط معلومات کے ساتھ شیئر کیا جاتا رہا، جس سے عوام میں غلط تاثر پیدا ہوا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز یا تصاویر کو شیئر کرنے سے قبل ان کی حقیقت جانچنا ضروری ہے، کیونکہ پرانی یا کسی دوسرے ملک کی فوٹیج کو غلط تناظر میں پیش کرنا عوام کو گمراہ کر سکتا ہے۔

فیکٹ چیک کے مطابق چوہوں کی وائرل ویڈیو کوئٹہ کے سول اسپتال کی نہیں بلکہ بھارتی ریاست اتر پردیش کے ایک سرکاری اسپتال کی ہے، لہٰذا اسے پاکستان کے کسی طبی ادارے سے منسوب کرنا درست نہیں۔

Load Next Story