ٹرمپ کا بڑا دعویٰ! ایران نے بمباری رکوانے کے لیے خفیہ رابطہ کیا، تہران کی فوری تردید

امریکی افواج نے ایران کے خلاف حالیہ کارروائی میں 49 ٹوماہاک میزائل داغے، امریکی صدر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی قیادت نے براہِ راست ان سے رابطہ کرکے امریکا سے جاری بمباری روکنے کی درخواست کی ہے، تاہم ایران نے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکی افواج نے ایران کے خلاف حالیہ کارروائی میں 49 ٹوماہاک میزائل داغے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکام نے انہیں فون کرکے بمباری روکنے کی درخواست کی۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر ایران جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کی شرائط قبول نہیں کرتا تو امریکا مزید سخت فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کا راستہ اب بھی کھلا ہے، تاہم فیصلہ تہران کو کرنا ہوگا۔

دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے ٹرمپ کے بیان کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی حکام کی جانب سے امریکی صدر سے کسی قسم کا رابطہ نہیں کیا گیا۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ ٹرمپ کا یہ دعویٰ بے بنیاد ہے اور جنگی صورتحال سے نکلنے کے لیے ایک سیاسی بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران اپنی قومی خودمختاری اور سلامتی کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام جاری رکھے گا اور بیرونی دباؤ کے تحت کوئی فیصلہ نہیں کرے گا۔

امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد دونوں ممالک کے بیانات میں واضح تضاد سامنے آیا ہے، جس کے باعث خطے کی صورتحال مزید غیر یقینی ہوتی جا رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور عسکری محاذوں پر پیش رفت انتہائی اہم ثابت ہو سکتی ہے۔

Load Next Story