آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کی منظوری کےلیے قومی اسمبلی کا اجلاس جاری، وزیر خزانہ بجٹ پیش کر رہے ہیں
وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے 17.5 ٹریلین روپے سے زائد حجم کے وفاقی بجٹ کی منظوری کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی سربراہی میں جاری ہے جس میں وفاقی وزیر خزاہ محمد اورنگزیب بجٹ پیش کر رہے ہیں۔
قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس ہوا، جس میں نئے مالی سال کے لیے بجٹ دستاویزات کے مسودے کی منظوری دے دی گئی۔
اجلاس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے پر تفصیلی غور کیا گیا، جس کے بعد ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فی صد اور پنشن میں بھی 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی گئی۔
وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اگلے مالی سال کا وفاقی بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کرنا شروع کای تو اجلاس کے آغاز پر پاکستان تحریک انصاف کے ارکان نے احتجاج کرتے ہوئے نعرے بازی کی جبکہ آزاد ارکان نے پلے کارڈز اٹھا کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔
بجٹ تقریر کا آغاز کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ اس ایوان کے سامنے بجٹ پیش کرنا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔
انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج پوری دنیا پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو تسلیم کرتی ہے۔
وزیر خزانہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ کئی ممالک پاکستان کے تیار کردہ جنگی طیاروں کو اپنی افواج کا حصہ بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کے معاہدے کا بھی حوالہ دیا اور دونوں ممالک کے تعلقات کو اہم قرار دیا۔
حکومت کا 6 شعبوں کیلیے سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ
وزیر خزانہ نے بتایا کہ 6 شعبوں کیلیے سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، انہوں نے کہا کہ 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے سالانہ کمانے والوں پر 1 سے 7 فیصد سپر ٹیکس عائد تھا۔
جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی
حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ائلرز کی جائیداد کی فروخت پر ٹیکس 5.5 فیصد سے 2.75 فیصد کر دیا۔
وزیرخزانہ نے کہا کہ اس اقدام سے ملک میں تعمیراتی سرگرمیاں بڑھیں گی، انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے سیمنٹ ،لوہا،شیشہ، ٹمبر،پینٹس،ٹائلز ،ہارڈویئر سمیت 40 صنعتیں چلیں گی۔
حکومت نے بیرون ملک سے آن لائن خریداری پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں بڑی کمی کردی
حکومت نے باہر کے ممالک سے آن لائن شاپنگ کرنے پر ودہولڈنگ ٹیکس کو 5 فیصد سے کم کرکے صفر اعشاریہ فیصد کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ ایکسپورٹ پر عائد ایڈوانس انکم ٹیکس کو 2 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
خواتین کے سینیٹری پیڈز پر عائد ٹیکس ختم
حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں خواتین کے لیے سینیٹری پیڈز اور متعلقہ اشیا پر ٹیکس کے خاتمے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیرخزانہ نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں خواتین کے سینیٹری پیڈز اور متعلقہ اشیا پر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔
آبادی کنٹرول کرنے کیلیے مائع حمل اشیا پر ٹیکس ختم
وزیرخزانہ نے کہا کہ آبادی کی رفتار کو کم کرنے کے لیے اور اس کی منصوبہ بندی کے لیئے اقدامات حکومت کی ترجیح ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مانع حمل اشیا پر عائد ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جارہا ہے۔
گاڑیوں کی درآمد پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد
وزیرخزانہ نے بتایا کہ درآمد کی جانے والے 2ہزار سی سی سے بڑی اور 3ہزار سی سی تک ایس یو ویز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کر رے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 3ہزار سی سی سے بڑی گاڑیوں پر ڈیوٹی بڑھا رہے ہیں، اس ٹیکس کا اطلاق 2کروڑ سے مہنگی لگژری الیکٹرک کار پر ہوگا۔
زنس کلاس سفر پر ٹیکس ختم
وزیرخزانہ نے بتایا کہ حکومت نے ایک اور ریلیف کے تحت بزنس کلاس پر غیر ملکی صفر پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے کی تجویز ہے۔
غیر ملکی اثاثوں پر کیپٹل ویلیو ٹیکس ختم
وزیر خزانہ نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں غیر ملکی اثاثوں پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس کا خاتمہ کیا جارہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اقدام سے پاکستانیوں کو غیر ملکی مالی اثاثے ریکارڈ پر لانے کی حوصلہ افزائی ملے گی۔
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 2,680 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں،محمد اورنگزیب
انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت فلیگ شپ اقدامات کے لیے 838 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، ایکسپورٹ ری فنانس سکیم کے لیے 88 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، قومی ترقیاتی پروگرام کا حجم تین ہزار چھ سو پچہتر ارب روپے ہے، وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لیے ایک ہزار ارب روپے شامل ہیں۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ صوبائی ترقیاتی پروگراموں کے لیے دو ہزار دو سو چوبیس ارب روپے اور سرکاری اداروں (SOEs) میں سرمایہ کاری کے لیے 451 ارب روپے شامل ہیں، وفاقی ترقیاتی پروگرام کا ساٹھ (60%) فیصد سے زائد حصہ بنیادی ڈھانچے جیسے ٹرانسپورٹ، انرجی، آبی وسائل اور توانائی پر مرکوز ہے، بجٹ میں ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے شعبے کے لیے365 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایم 6سکھر-حیدرآباد موٹروے کی تعمیر کے لیے ADB سے 30 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی،
ML-I (پشاور-کراچی ریلوے لائن) کے اپگریڈیشن کے لیے 25 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، گوادر بندرگاہ اور دیگر صوبوں میں ٹرانسپورٹ کے منصوبوں کے لیے 93 ارب سے زائد رقم مختص کی گئی ہے۔
بجلی کے شعبے کے لیے116.2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں،،محمد اورنگزیب
وزیر خزانہ نے کہا کہ قابل تجدید توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے10.2 ارب اور3 ارب روپے شامل ہیں، شمسی اور ہوا سے بجلی کے09 منصوبوں کے لیے واپڈا کو 50.2 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں 8 ہائیڈل پاور منصوبوں کے لیے13.1 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے، پہلے سے زیرِ تعمیرواپڈا اور نجی شعبے کے اپنے افرادی وسائل سے158 ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پانی کے منصوبوں کے لیے103.1 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، ڈائمر بھاشا ڈیم کیلئے14 ارب، موہنڈ ڈیم کے لیے15 ارب ، داسو ہائیڈل پاور کے لیے22 ارب مختص کیے گئے ، کراچی کے بڑے پیمانے پر پانی کے منصوبے (K-4) کے لیے10 ارب روپے شامل ہیں۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ شہری مراکز (55%) لاکھوں سے زائد روزگار فراہم کرتے ہیں اور جی ڈی پی میں چون اعشاریہ چھ فیصد حصہ ہیں، پائیدار شہری ترقی اور ہاوٴسنگ کے شعبے کے لیے 54.6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، صنعتی ترقی اور برآمدی مسابقت کی صلاحیت بڑھانے کے لیے 6.6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، صحت کے منصوبوں کے لیے 25.1 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
اعلیٰ تعلیم کے شعبے کیلئے46 ارب روپے مختص کیے گئے، محمد اورنگزیب
وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان ایجوکیشن اینڈ ریسرچ نیٹ ورک کی اپ گریڈیشن، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل لرننگ کے فروغ کیلئے3.6 ارب روپے مختص، دانش اسکولز کے لیے تقریباً 22 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، وزیر اعظم یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت7.9 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، گورننس کے شعبے کے لیے13 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کیلئے144.9ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کے لیے45 ارب روپے،جی بی کیلئے 44 ارب اور کے پی کے ضم شدہ اضلاع56 ارب مختص کیے گئے ہیں، وزیر اعظم کے خصوصی پیکیج کے طور پر آزاد جموں و کشمیر کے لیے پانچ 5 ارب روپے مختص کیے گئے، گلگت بلتستان کے لیے چار4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے مختلف ریلیف اقدامات کا اعلان
کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 10 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ مہنگائی کے باعث مشکلات کے پیش نظر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں سات فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ انکم ٹیکس میں بھی کمی کی تجاویز شامل ہیں جن کے تحت چار سلیبس کے ذریعے تنخواہ دار افراد کو ریلیف فراہم کیا جائے گا۔
پچیس سے تیس لاکھ روپے سالانہ آمدن والے افراد کے لیے ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کرنے اور تیس سے بتیس لاکھ روپے آمدن والوں کے لیے شرح 25 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ اس کے علاوہ تنخواہ دار طبقے پر عائد ایک اضافی چارج ختم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
کھیلوں کے انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے 1.851 ارب روپے مختص
وفاقی حکومت نے بین الصوبائی رابطہ ڈویژن کے تحت کھیلوں کے انفراسٹرکچر کی ترقی کے منصوبوں کے لیے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) 2026-27 میں تقریباً 1.851 ارب روپے مختص کیے ہیں، جو ملک بھر میں کھیلوں کی سہولیات کو بہتر بنانے کے حکومتی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
پی ایس ڈی پی دستاویزات کے مطابق مجموعی طور پر 13 جاری ترقیاتی منصوبے موجودہ سال کے ترقیاتی پروگرام میں شامل کیے گئے ہیں، جن کی مجموعی منظور شدہ لاگت 9.508 ارب روپے ہے۔ 30 جون 2026 تک ان منصوبوں پر 4.356 ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، جبکہ 5.151 ارب روپے کی رقم آئندہ مالی سال کے لیے منتقل کی گئی ہے۔
اہم منصوبوں میں پاکستان اسپورٹس کمپلیکس اسلام آباد میں ارشد ندیم اور شہباز شریف ہائی پرفارمنس اسپورٹس اکیڈمی کا قیام شامل ہے، جس کے لیے 250 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ یہ منصوبہ 27 جنوری 2025 کو سی ڈی ڈبلیو پی سے منظور ہوا تھا اور اس کی کل لاگت 895.087 ملین روپے ہے۔
اسی طرح جنوبی ایشیائی کھیلوں کے لیے پاکستان اسپورٹس کمپلیکس اسلام آباد میں مختلف سہولیات کی فراہمی کے لیے 134.832 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ان سہولیات میں وارم اپ ٹریک، ہیٹ ایکسچینجر، کوچز کے رہائشی فلیٹس، کثیرالمقاصد ہالز، فینسنگ، فائیو اے سائیڈ ہاکی گراؤنڈ، فٹسال گراؤنڈز اور ماسٹر پلاننگ شامل ہیں۔
اس منصوبے کی مجموعی لاگت 769.391 ملین روپے ہے۔ اسکردو میں پاکستان اسپورٹس بورڈ (PSB) کوچنگ سینٹر کی تعمیر کے لیے 150 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ اسلام آباد، فیصل آباد، واہ کینٹ، پشاور، کوئٹہ، مظفرآباد اور سوات سمیت سات شہروں میں مصنوعی ہاکی ٹرف کی تبدیلی اور تنصیب کے لیے 120 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق پاکستان اسپورٹس کمپلیکس میں بائیو مکینیکل لیب کے قیام کے لیے 70.488 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔
یہ فنڈز اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکومت کھیلوں کے انفراسٹرکچر کو جدید بنانے، ایلیٹ کھلاڑیوں کے لیے تربیتی سہولیات کو بہتر بنانے اور قومی و صوبائی سطح پر کوچنگ کی صلاحیت میں اضافے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، تاکہ مستقبل میں بین الاقوامی کھیلوں کے بڑے مقابلوں کی بہتر میزبانی اور تیاری ممکن بنائی جا سکے۔
ایس آئی ایف سی کے تحت 12 مختلف شعبوں میں منصوبوں کو وسعت دی گئی
حکومت نے بجٹ تقریر میں بتایا ہے کہ ایس آئی ایف سی کے تحت 12 مختلف شعبوں میں مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے منصوبوں کو وسعت دی گئی ہے اور ان اقدامات کے واضح نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
اسلام آباد میں جاری منصوبوں میں 6 ہزار 860 ایکڑ اراضی پر ایک خصوصی اقتصادی زون کی تشکیل شامل ہے جو ملک میں معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کرے گا۔ اسی طرح ریفائنری پالیسی بھی ایس آئی ایف سی کی ایک اہم کامیابی قرار دی گئی ہے جس کے تحت پاکستان میں ریفائنری اور پیٹرولیم مصنوعات کی اسمبلی ایک مشترکہ منصوبے کے طور پر شروع کی گئی ہے، جس سے توانائی کے شعبے کو مضبوط بنانے اور ٹیکس نیٹ ورک کو وسعت دینے میں مدد ملے گی۔
مزید بتایا گیا ہے کہ ویئر ہاؤسنگ کے شعبے کو باضابطہ طور پر صنعت کا درجہ دیا گیا ہے جس سے سپلائی چین کی لاگت کم ہوگی اور دیگر صنعتی شعبوں کو فائدہ پہنچے گا۔ بجٹ کو ایک واضح اور بامقصد حکمت عملی کے تحت تیار کیا گیا ہے جس کی بنیادی ترجیح پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور برآمدات کا فروغ ہے۔ حکومت برآمدی صنعتوں کو ٹیکس مراعات اور ایکسپورٹ فنانس اسکیم کے ذریعے مالی معاونت فراہم کر رہی ہے تاکہ ایکسپورٹرز بین الاقوامی منڈیوں میں بہتر مقابلہ کر سکیں۔
اس کے ساتھ برآمدات میں اضافے کو زرمبادلہ کے ذخائر کی مضبوطی، روزگار کے مواقع اور معاشی خوشحالی سے جوڑا گیا ہے۔ زراعت کو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے اس کے فروغ اور کسانوں کو آسان قرضوں کی فراہمی کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔
صنعتی شعبے کی ترقی کو روزگار میں اضافے کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے جبکہ بجٹ کی ایک اہم خصوصیت ٹیکس ریونیو میں اضافہ کو ماضی کے بجائے کمپلائنس اور انفورسمنٹ کے ذریعے یقینی بنانا بتایا گیا ہے۔