کورونا کے بعد سب سے بڑا معاشی بحران؟ ایران جنگ نے عالمی معیشت ہلادی، ورلڈ بینک کی وارننگ
واشنگٹن: ورلڈ بینک نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران جنگ اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث عالمی معیشت کورونا وبا کے بعد اپنی کم ترین ترقی کی شرح کی طرف بڑھ رہی ہے۔
ورلڈ بینک نے اپنی تازہ گلوبل اکنامک پراسپیکٹس رپورٹ میں 2026 کے لیے عالمی معاشی ترقی کی پیش گوئی 2.9 فیصد سے کم کرکے 2.5 فیصد کر دی ہے۔ ادارے کے مطابق تیل اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے، بڑھتی مہنگائی اور قرضوں کی بلند لاگت نے عالمی اقتصادی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی توانائی سپلائی چین پر شدید دباؤ ڈالا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا میں تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔
ورلڈ بینک کے مطابق رواں سال برینٹ خام تیل کی اوسط قیمت 94 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 36 فیصد زیادہ ہے۔ اسی طرح کھادوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں خوراک مہنگی ہونے کا خدشہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق عالمی مہنگائی کی شرح 2026 میں 4 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ اگر توانائی کی سپلائی میں مزید رکاوٹیں پیدا ہوئیں تو عالمی اقتصادی ترقی صرف 1.3 فیصد تک گر سکتی ہے اور مہنگائی 4.4 فیصد تک جا سکتی ہے۔
ورلڈ بینک نے خبردار کیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ ادارے نے بتایا کہ جنوری کے بعد سے دنیا کے تقریباً دو تہائی ممالک کی اقتصادی ترقی کی پیش گوئیوں میں کمی کی گئی ہے۔
ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ترقی پذیر ممالک کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا ہے اور موجودہ بحران نے ان مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ان کے مطابق حکومتوں کو عوام کے تحفظ، معاشی استحکام، روزگار اور ترقی کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔
ادارے نے اعلان کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے معاشی اثرات سے متاثر ہونے والے ممالک کی مدد کے لیے 60 ارب ڈالر تک کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں، جبکہ ضرورت پڑنے پر اس امدادی پیکج کو 100 ارب ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے۔