وفاقی کابینہ نے بجٹ مسودے کی منظوری دیدی، تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ

وزیراعظم کا اتحادی جماعتوں اور آئی ایم ایف سے بجٹ کی تیاری میں معاونت اور ساتھ دینے پر اظہار تشکر

اسلام آباد:

وفاقی کابینہ نے بجٹ مسودے کی منظوری دے دی، جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ بھی منظور کرلیا گیا۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس ہوا، جس میں نئے مالی سال کے لیے بجٹ دستاویزات کے مسودے کی منظوری دے دی گئی۔

اجلاس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے پر تفصیلی غور کیا گیا، جس کے بعد ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فی صد اور پنشن میں بھی 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی گئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وفاقی کابینہ سے منظوری کے فوری بعد وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب قومی اسمبلی میں نئے مالی سال کا وفاقی بجٹ پیش کریں گے۔

وزیراعظم نے کابینہ اجلاس میں بجٹ 2026-27ء کی تیاری میں میں بھرپور ساتھ دینے پر اتحادی جماعتوں کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف کی معاونت پر بھی اظہار تشکر کیا۔

کابینہ اجلاس میں وفاقی وزرا اور وزرائے مملکت نے ڈیسک بجاکر وزیراعظم کی تائید کی ۔

بجٹ سے متعلق ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے سولر پینلز، اسٹیشنری اشیا اور اسٹاک مارکیٹ پر عائد موجودہ ٹیکسوں میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سولر پینلز پر سیلز ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز واپس لے لی گئی ہے، جبکہ اسٹیشنری اشیا پر سیلز ٹیکس میں اضافے کی مجوزہ تجویز بھی بجٹ کا حصہ نہیں بنے گی۔

علاوہ ازیں بجٹ میں درآمدی الیکٹرک گاڑیوں (ای ویز) پر سیلز ٹیکس کی شرح 25 فیصد تک بڑھانے کا امکان ہے، جبکہ ہائبرڈ گاڑیوں پر موجودہ ٹیکس شرحیں برقرار رہنے کی توقع ہے۔

بجٹ تجاویز کے مطابق ماحول دوست الیکٹرک گاڑیوں کے لیے ٹیکس ریلیف دیے جانے کا امکان ہے، جبکہ روایتی ایندھن پر چلنے والی گاڑیوں پر کاربن لیوی عائد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے نتیجے میں بڑی گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے، جبکہ مقامی سطح پر تیار کی جانے والی الیکٹرک گاڑیاں نسبتاً سستی ہونے کی امید ہے۔ تاہم ہائبرڈ گاڑیوں پر موجودہ ٹیکس نظام برقرار رہنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

Load Next Story