گرمیوں میں روزانہ شیمپو کرنا درست یا نقصان دہ؟ ماہرین نے بال دھونے کا درست طریقہ بتا دیا

گرمی کے موسم میں سر کی جلد میں موجود تیل پیدا کرنے والے غدود زیادہ متحرک ہو جاتے ہیں

(فوٹو: فائل)

گرمیوں کی شدت بڑھتے ہی بالوں کی دیکھ بھال بہت سے لوگوں کے لیے ایک چیلنج بن جاتی ہے۔ تیز دھوپ، پسینہ اور حبس کے باعث بال جلد چپچپے اور بے جان محسوس ہونے لگتے ہیں، جس کے بعد اکثر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا روزانہ شیمپو کرنا چاہیے یا نہیں؟

ماہرینِ جلد کے مطابق اس حوالے سے کوئی ایک اصول سب پر لاگو نہیں ہوتا بلکہ بالوں کی ساخت اور ضرورت کو مدِنظر رکھ کر فیصلہ کرنا چاہیے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمی کے موسم میں سر کی جلد میں موجود تیل پیدا کرنے والے غدود زیادہ متحرک ہو جاتے ہیں۔ جب یہ قدرتی تیل پسینے کے ساتھ مل جاتا ہے تو بالوں کی جڑوں میں جمع ہو کر خارش، خشکی اور جلدی سوزش جیسی مشکلات کو جنم دے سکتا ہے۔ اسی لیے سر کی صفائی ضروری ہے، تاہم ضرورت سے زیادہ شیمپو کا استعمال بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

ان کے مطابق اگر روزانہ سخت کیمیکلز یا سلفیٹ والے شیمپو سے بال دھوئے جائیں تو سر کی قدرتی نمی ختم ہونے لگتی ہے۔ اس کے ردِعمل میں جسم مزید تیزی سے تیل پیدا کرتا ہے، جس کے نتیجے میں بال جلد دوبارہ چکنے ہو جاتے ہیں جبکہ ان کے سرے خشک اور بے رونق دکھائی دینے لگتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق بال دھونے کی تعداد کا انحصار بالوں کی نوعیت پر ہونا چاہیے۔ جن افراد کے بال سیدھے اور باریک ہوتے ہیں، ان میں تیل جڑوں سے نیچے تک تیزی سے پھیل جاتا ہے، اس لیے انہیں گرمیوں میں ایک یا دو دن کے وقفے سے بال دھونے چاہئیں۔

دوسری جانب لہردار یا درمیانی گھنے بال رکھنے والے افراد کے بالوں میں تیل نسبتاً آہستہ پھیلتا ہے، اس لیے ان کے لیے دو سے تین دن بعد شیمپو کرنا زیادہ مناسب سمجھا جاتا ہے تاکہ بال ضرورت سے زیادہ خشک نہ ہوں۔

بہت زیادہ گھنگھریالے اور موٹے بال رکھنے والوں کے لیے صورتحال مختلف ہوتی ہے۔ ایسے بالوں میں قدرتی تیل آسانی سے پورے بالوں تک نہیں پہنچ پاتا، اس لیے بار بار شیمپو کرنے سے بال کمزور اور خشک ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسے افراد کو چار سے سات دن کے وقفے سے یا بعض صورتوں میں اس سے بھی کم بار شیمپو کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

ورزش، جم یا شدید پسینے کے بعد بھی ہر مرتبہ شیمپو استعمال کرنا ضروری نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پسینہ پانی میں حل ہو جاتا ہے، اس لیے نیم گرم پانی سے بال اچھی طرح دھو کر اور انگلیوں سے سر کی جلد کی صفائی کر کے بھی نمکیات اور پسینے کو دور کیا جا سکتا ہے۔ بعد ازاں بالوں کے سروں پر ہلکا سا کنڈیشنر لگانے سے بال تازہ اور نرم رہتے ہیں۔

بالوں کو صاف اور صحت مند رکھنے کے لیے ماہرین چند مفید مشورے بھی دیتے ہیں۔ ان کے مطابق شیمپو ہمیشہ جڑوں پر لگانا چاہیے کیونکہ جھاگ خود بخود بالوں کی لمبائی کو بھی صاف کر دیتا ہے۔ اگر روزانہ بال دھونا ناگزیر ہو تو سلفیٹ سے پاک ہلکے شیمپو کا انتخاب بہتر رہتا ہے۔

اسی طرح ڈرائی شیمپو بھی ایک مؤثر متبادل ہو سکتا ہے، تاہم اسے صبح کے بجائے رات کو سونے سے پہلے جڑوں میں لگانا زیادہ فائدہ مند سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس دوران اسے اضافی تیل جذب کرنے کے لیے کافی وقت مل جاتا ہے۔

ماہرین یہ بھی تجویز کرتے ہیں کہ مہینے میں دو مرتبہ کلیریفائنگ شیمپو استعمال کیا جائے تاکہ پسینے، دھول اور سخت پانی کے اثرات کو مکمل طور پر دور کیا جا سکے۔ ان کے مطابق اگر سر کی جلد میں کھچاؤ، جلن یا خارش محسوس ہو تو یہ اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ آپ بال ضرورت سے زیادہ دھو رہے ہیں، جبکہ سر بھاری اور چکنا محسوس ہونے لگے تو سمجھ لیں کہ شیمپو کرنے کا وقت آ گیا ہے۔

Load Next Story