تنخواہ دار نچلے طبقے کو سبسڈی دینا مقصد ہے، کئی شعبوں کو ریلیف دے رہے ہیں، وزیر خزانہ
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ نئے مالی سال میں تنخواہ دار نچلے طبقے کو سبسڈی دینا مقصد ہے، بجٹ میں کئی شعبوں کو ریلیف دیا گیا ہے۔
وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال، چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال، سربراہ ٹیکس پالیسی آفس نجیب میمن کے ساتھ پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پچھلے سال یہیں بیٹھ کر معاشی استحکام کی بات کررہے تھے تو کہا تھا کہ استحکام سے گروتھ کی طرف جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس بجٹ میں معاشی استحکام سے معاشی گروتھ کی جانب سفر کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ بجٹ میں برآمدات کے فروغ کے لیے اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ ایڈوانس ٹیکس اور سپر ٹیکس ختم کیا گیا ہے۔ تمام برآمد کنندگان کے لیے سپر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز ہے۔ 70سے 71ارب روپے کی سبسڈی دی گئی ہے تاکہ برآمد کنندگان کو سازگار ماحول مل سکے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ برآمد کنندگان کو ساڑھے 4 فیصد پر فنانسنگ دستیاب ہوگی۔ پیداواری لاگت کم کرنے کے لیے خام مال کی درآمد پر ڈیوٹی کم کی ہے۔ اشیاء و خدمات کی ایکسپورٹ کے اعدادوشمار بہت حوصلہ افزاء ہیں۔ تعمیرات کے شعبے کے لیے جائیداد کی خریدوفروخت فروخت پر ٹیکس کم کیا گیاہے اور اس میں ہاؤسنگ کا شعبہ اہم ہے، اس کے لیے بھی ٹیکسوں کی شرح بجٹ میں اعلان کردیا گیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ایگریکلچر کریڈٹ و فنانسنگ 15 فیصد بڑھی ہے۔ اس بار کچھ مالی وسائل دستیاب ہوئے ہیں ان کو بھرپور استعمال کیا ہے۔
پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ہماری ترجیح ایکسپورٹ لیڈ گروتھ پر رہی ہے۔ سب ایکسپورٹرز کے لیے سپر ٹیکس کو ختم کیا گیا ہے۔ 70 ارب کی اضافی سبسڈی فنانسنگ کے لیے دی گئی ہے۔ گڈز اور سروسز ایکسپورٹ ہماری معیشت کے لیے اہم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیلری کلاس کے سب سے نچلے لیول والوں کو سبسڈی دینا مقصد ہے۔ پرو بزنس بجٹ کے لیے بہت کام کیا گیا ہے۔ ایگریکلچر فنانسنگ کو کافی حد تک بڑھایا گیا ہے۔ چھوٹے کسانوں کے لیے اسکیم لانے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ نوجوانوں کے لیے یوتھ لون 262 ارب رکھے گئے ہیں۔ زرعی سیکٹر کے لیے بھی جو سامان منگوایا جاتا ہے اس پر بھی ٹیکس مکمل ختم کردیا گیا ہے۔ زراعت میں اچھی پیداوار کے لیے ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ خطے میں جاری جنگ کی وجہ سے تیل کی قیمت میں کافی اضافہ ہوا ۔ پاکستانی قیادت امن قائم کرنے کے لیے ہمت نہیں ہار رہی ۔ ہماری قیادت خطے میں امن کے لیے اہم کردار ادا کررہی ہے۔ آئل کی سپلائی اور قیمت متعلق اقدامات لیے گئے ہیں۔ صوبوں نے بھی دفاعی بجٹ کے لیے تعاون کیا ہے ۔
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ سولر پینل پر ٹیکس سے متعلق بہت سے افواہیں تھیں۔ ہمارے پاس وسائل کی کمی نہیں ہے۔ ہمیں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو فروغ دینا ہوگا۔ سندھ حکومت نے کوئلہ سمیت دیگر منصوبوں میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت یہ کرکے دکھایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی کی حد نہیں بڑھائی جارہی ہے۔ صرف پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں ردوبدل کرتے رہتے ہیں۔ ایس آئی ایف سی اور سرمایہ کاری بورڈ کے انضمام کے حوالے سے ایسا لگ رہا تھا کہ ڈپلیکیشن ہورہی ہے اس لیے پراسیس جاری ہے۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ایس آئی ایف سی اور سرمایہ کاری بورڈ کے انضمام کا اصولی فیصلہ کر چکے ہیں۔ معاشی استحکام کوئی منزل نہیں ہوتی۔ معاشی استحکام صرف بنیادی ہائی جین ہے۔ پہلے مقامی سرمایہ کار سرمایہ کاری کریں گے پھر غیر ملکی سرمایہ کار آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم آئی ایم ایف کے پروگرام میں ہیں اور آئی ایم ایف کے ساتھ مسلسل مشاورت ہوتی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ مجھے ایف بی آر سے ایس ایم ایس آیا ہے کہ اس بار آپ کا کریڈٹ کارڈ بل اتنا بڑا ہے، آپ ریٹرنز فائنل کریں۔
وزیراعظم نے عوام اور تنخواہ دار طبقے سے وعدہ پورا کردیا، بلال اظہر کیانی
وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کا یہ عوامی بجٹ ہے۔ یہ تنخواہ دار طبقے،صنعتکار و تاجر طبقے کا بجٹ ہے۔ وزیراعظم نے متعدد مرتبہ کہا تھا کہ تنخواہ دار طبقہ ٹیکس کا سب سے زیادہ بوجھ اٹھارہا ہے اور جب موقع ملا ریلیف دیں۔ اس لیے اس بار بجٹ میں وزیراعظم نے عوام اور تنخواہ دار طبقے کے ساتھ کیا گیا وعدہ پورا کیا ہے۔
بجٹ میں جو ریلیف دیا گیا، اس کے پیچھے 2 سال کی عرق ریزی ہے، عطا اللہ تارڑ
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ یہ جو مالی گنجائش پیدا ہوئی ہے اور بجٹ میں ریلیف دیا گیا ہے، اس کے پیچھے 2 سال کی عرق ریزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر سے سفارش کلچر کا خاتمہ کردیا گیا ہے ۔ آج اگر میں چیئرمین ایف بی آر کو کسی افسر کے تبادلے و تقرری کی سفارش کروں تو شام تک اس افسر کی معطلی کا آرڈر میری ٹیبل پر ہوگا۔ اب لوگ ایف بی آر میں سفارش کے لیے رابطہ ہی نہیں کرتے ۔