ایران کیساتھ معاہدے پر دستخط آج ہوں گے؛ آبنائے ہرمز سب کیلیے کھول دی جائیگی؛ ٹرمپ
امریکا اور ایران کے درمیان 2 ہفتوں کی جنگ بندی میں آبنائے ہرمز کھول دینے پر اتفاق ہوا ہے (اے آئی، تصوراتی تصویر)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ اہم معاہدے پر دستخط آج بروز اتوار کو ہوں گے جس کے بعد آبنائے ہرمز کو تمام ممالک کے لیے فوری طور پر کھول دیا جائے گا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے یہ بات اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں کہی۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران اب نہ تو جوہری ہتھیار حاصل کرنا چاہتا ہے اور نہ ہی وہ اسے خریدنے، تیار کرنے یا کسی بھی طریقے سے حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہوگا۔
ان کے بقول معاہدے پر دستخط کے فوراً بعد آبنائے ہرمز کو دنیا کے تمام ممالک کے لیے کھول دیا جائے گا جو عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات اب ماضی کی کسی بھی انتظامیہ کے مقابلے میں بہتر ہیں اور موجودہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں نمایاں کمی کا اشارہ دیتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جب حالات معمول پر آ جائیں گے تو ایران کے نیوکلیئر ڈسٹ کو حاصل کرکے اسے بتدریج کم کرتے ہوئے ختم کیا جائے گا۔ چاہے یہ جوہری گرد ایران ہی میں رہے یا امریکا لائی جائے۔
صدر ٹرمپ اس امید کا بھی اظہار کیا کہ یہ عمل تیزی، آسانی اور خوش اسلوبی سے مکمل ہو جائے گا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو ان کے پاس آخری آپشن موجود ہے جسے وہ دوبارہ استعمال نہیں کرنا چاہیں گے۔
امریکی صدر نے خوشگوار انداز میں اس خواہش کا بھی اظہار کیا کہ وہ ایران سمیت پورے مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ طویل مدت تک مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔
انھوں نے سابق امریکی صدر باراک اوباما کی ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے (JCPOA) کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ بارک اوباما کا معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیار کے قریب لے جا رہا تھا جبکہ ان کے بقول موجودہ مجوزہ معاہدہ اس کے برعکس اثر رکھتا ہے اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے گا۔
واضح رہے کہ فریقین امریکا اور ایران سمیت ثالثی پاکستان نے بھی اعلان کیا ہے جنگ بندی معاہدے کا مسودہ تکمیل کے اتنے قریب پہنچ چکا ہے جتنا اس سے قبل کبھی نہیں تھا۔