بلدیہ فیکٹری کیس کا فیصلہ میرے بیانیے کی فتح ہے، مصطفیٰ کمال
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے بلدیہ فیکٹری کیس کے فیصلے کو اپنے بیانیے کی فتح قرار دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق بہادر آباد مرکز میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے مرکزی رہنما و وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے سانحہ بلدیہ کے متاثرین اور شہداء کے لواحقین کو خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کے صبر کی تعریف کی۔
انہوں نے کہا کہ متاثرین نے برملا تسلیم کیا ہے کہ بلدیہ فیکٹری میں لگنے والی آگ ایک حادثہ تھی، جسے غلط بنیادوں پر ایم کیو ایم سے جوڑا گیا تھا جو کہ انصاف کا قتل تھا۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اگر وہی پرانا دور ہوتا تو نہ جانے کتنے بے گناہ کارکن پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیے جاتے۔ اللہ کا شکر ہے کہ میری قوم پر لگی ایک ایسی تہمت کا داغ ہٹ گیا جو تا قیامت ہمارے ساتھ رہ سکتا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ ان کے نظریے کی جیت ہے، کیونکہ وہ پہلے دن سے اس بات پر قائم تھے کہ یہ کیس جھوٹ پر مبنی ہے۔
انہوں نے سانحہ بلدیہ کیس میں قانونی لڑائی لڑنے پر بیرسٹر فروغ نسیم اور حسان صابر کی خدمات کو زبردست الفاظ میں سراہا اور انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان وکلاء نے اے ٹی سی سے لے کر سپریم کورٹ تک اس کیس کو قوم کے مقدمے کے طور پر لڑا اور اللہ نے انہیں سرخرو کیا۔
مصطفیٰ کمال اپنی جماعت کی موجودہ قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزارت یا عہدوں کے لیے نہیں بلکہ قوم کے حقوق کے لیے آئے تھے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا قیادت قوم کے مسائل حل کرنے آئی ہے یا صرف گورنر شپ اور ذاتی مفادات کے حصول کے لیے؟ انہوں نے کہا کہ "پارٹی کے لیڈر کی اتنی رٹ ہوتی ہے کہ اسے الیکشن کا ڈر نہیں ہوتا، یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے۔ جن سے حقوق مانگنے ہیں، انہی سے ایکسٹینشن کی درخواستیں کی جا رہی ہیں۔ ایکسٹینشن لینے والے حقوق کیسے لیں گے؟
انہوں نے کہا کہ اگر قبلہ درست نہ کیا گیا تو وہ مزید حقائق عوام کے سامنے لانے پر مجبور ہوں گے۔ ابھی تک صرف وہی کہا ہے جو ٹی وی پر چل چکا ہے، صادق افتخار ہمارا ایم این اے ہے اور اس کا نام پنکی نے ڈرگ کیس میں لیا ہے، پارٹی نے کیا کاروائی کی؟ کارکن کیسے جا کر ووٹ مانگیں؟
مصطفیٰ کمال نے کارکنان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ مایوس نہ ہوں، وہ حق پر ہیں اور کسی سے ڈرنے والے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس پارٹی میں کسی لالچ کی وجہ سے نہیں آئے تھے، اگر قوم کی خاطر کچھ برداشت کرنا پڑا تو کریں گے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ اس قوم کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اور اپنے نظریے پر کاربند رہیں گے۔