روئی، کاٹن سیڈ اور آئل کیک کی قیمتوں میں مندی کا رحجان

کاٹن سیکٹر کا بجٹ منظور ہونے سے قبل جننگ و ٹیکسٹائل سیکٹر پر ٹیکس میں کمی کا مطالبہ

کراچی:

وفاقی بجٹ میں صنعتوں کی بحالی کیلیے فنڈز مختص کرنے یاغیر معمولی سیلز ٹیکس کی حامل صنعتوں کیلیے سیلز ٹیکس کی شرح کم کرنے کے بجائے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلیے مختص فنڈز716ارب روپے سے بڑھا کر ریکارڈ 838ارب کیے جانے اور ملک بھر میں کاروبار کے بجائے خیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے جیسے اقدامات نے تجارت وصنعتی شعبوں کو اضطراب سے دوچار کردیا ہے۔ 

مقامی سطح پر روئی، پھٹی،کاٹن سیڈ اور آئل کیک کی قیمتوں میں مندی کا رحجان پیدا ہوگیا ہے جبکہ غیردستاویزی کاروبار میں غیر معمولی اضافے اور معیشت مزید کمزور ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ 

پورے کاٹن سیکٹر کی جانب سے وفاقی بجٹ منظور ہونے سے قبل جننگ و ٹیکسٹائل سیکٹر پر سیلز ٹیکس میں ریکارڈ کمی کا مطالبہ کردیا گیا ہے۔ 

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے ایکسپریس کو بتایا کہ جننگ سیکٹر پر اس وقت ریکارڈ86فیصد سے زائد سیلز ٹیکس عائد کیا گیا ہے جس میں روئی، کاٹن سیڈ، کاٹن سیڈ آئل اور آئل ڈرٹ پر18فیصد جبکہ آئل کیک پر 14فیصد سیلز ٹیکس عائد ہے جبکہ نان رجسٹرڈ خریداروں سے4فیصد مزید اضافی سیلز ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ 

وفاقی بجٹ سے قبل پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے نمائندوں کی وفاقی حکومت کے متعدد ذمے داران سے بات چیت ہوئی جن میں انھیں یقین دلایا گیا کہ اس وفاقی بجٹ میں کاٹن سیڈ اور آئل کیک پر سیلز ٹیکس مکمل طور پر ختم کردیا جائے گا مگر حیران کن طور پر ان میں سے کسی بھی وعدے پر عمل نہیں کیا گیا۔

جبکہ بی آئی ایس پی کیلیے مختص فنڈز17فیصد اضافے سے838ارب تک بڑھا دیے گئے جس سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ حکومت کاروباری ترقی کو فروغ دینے کے بجائے خیراتی سرگرمیوں کے فروغ میں زیادہ دلچسپی لے رہی ہے۔ 

وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر پاکستان میں کپاس کی بحالی کیلیے فوری پاکستان کاٹن بورڈ کے قیام کیلیے جلد نوٹیفیکیشن جاری کرنے کے احکامات جاری کرنے کے ساتھ تمام صوبوں خصوصاً بلوچستان کو کپاس کی پیداوار بڑھانے کیلیے اپنے اپنے منصوبہ جات فوری طور پر پیش کریں تاکہ پاکستان میں کپاس کی پیداوار کو زیادہ سے زیادہ بڑھایا جاسکے۔

Load Next Story