ایران امریکا مفاہمت، امن کی نئی عالمی امید

ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کی خبریں بھی اسی نوعیت کی ایک پیش رفت ہیں


ایڈیٹوریل June 15, 2026

عالمی سیاست کی تاریخ میں بعض لمحے ایسے بھی آتے ہیں جب برسوں کی تلخی، عدم اعتماد اور تصادم کے بادل اچانک چھٹنے لگتے ہیں اور افق پر مفاہمت کی کوئی مدھم سی کرن نمودار ہوتی ہے۔ یہ کرن اگرچہ ابتدا میں کمزور دکھائی دیتی ہے، لیکن وقت کے ساتھ وہ پورے منظرنامے کو روشن کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کی خبریں بھی اسی نوعیت کی ایک پیش رفت ہیں جنہوں نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے، اگرچہ اس مجوزہ معاہدے کے وقت، مقام اور حتمی خدوخال کے بارے میں مختلف النوع بیانات سامنے آرہے ہیں اور فریقین کی جانب سے بعض متضاد دعوے بھی کیے جارہے ہیں، تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ دونوں ممالک ایک ایسے مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں تصادم کے بجائے مفاہمت کی زبان نسبتاً زیادہ سنائی دے رہی ہے۔ یہ صورت حال اس لیے بھی خوش آئند ہے کہ موجودہ دنیا کو جنگوں، محاذ آرائیوں اور طاقت کے بے محابا استعمال سے زیادہ امن، استحکام اور تعاون کی ضرورت ہے۔

 اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ حالیہ کشیدگی نے صرف ایران اور امریکا کو ہی متاثر نہیں کیا بلکہ پورے خطے کو عدم استحکام کی کیفیت سے دوچار رکھا۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی کئی دہائیوں سے جنگوں، خانہ جنگیوں، فرقہ وارانہ کشیدگیوں اور جغرافیائی سیاسی رقابتوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ عراق، شام، یمن، لبنان اور فلسطین سمیت متعدد خطوں میں جاری بحرانوں نے لاکھوں انسانوں کی زندگیاں متاثر کیں۔ ایسے ماحول میں ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ تصادم کے امکانات عالمی امن کے لیے ایک مستقل خطرے کی حیثیت اختیار کر چکے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کشیدگی میں اضافہ ہوتا، پوری دنیا تشویش میں مبتلا ہو جاتی۔ موجودہ صورتحال میں سب سے اہم پہلو آبنائے ہرمز کا مسئلہ ہے۔

یہ محض ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے۔ خلیج فارس کو بحر ِ عمان اور بحر ِ عرب سے ملانے والی یہ آبی گزرگاہ دنیا کی توانائی کی تجارت میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ عالمی سطح پر تیل اور قدرتی گیس کی ایک بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے۔ جب بھی آبنائے ہرمز میں کشیدگی پیدا ہوتی ہے یا اس کے بند ہونے کے خدشات جنم لیتے ہیں، عالمی منڈیوں میں بے چینی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ سرمایہ کار محتاط ہو جاتے ہیں، تیل کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں اور توانائی پر انحصار کرنے والی معیشتیں دباؤ کا شکار ہونے لگتی ہیں۔ یہی سبب ہے کہ معاہدے کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کے مکمل طور پر کھل جانے کی خبریں عالمی معیشت کے لیے امید افزا سمجھی جا رہی ہیں، اگر توانائی کی ترسیل بلا رکاوٹ جاری رہتی ہے تو تیل کی عالمی قیمتوں میں استحکام یا کمی واقع ہوسکتی ہے۔

اس کے نتیجے میں پٹرولیم مصنوعات کی لاگت کم ہوگی، صنعتی پیداوار کے اخراجات میں کمی آئے گی اور مہنگائی کے دباؤ میں بھی کچھ حد تک کمی ممکن ہوگی۔ دنیا کی بڑی معیشتیں ہوں یا ترقی پذیر ممالک، سب کے لیے توانائی کی قیمتوں میں استحکام ایک مثبت خبر ہوگی۔ خصوصاً ایسے وقت میں جب عالمی معیشت ابھی تک مختلف بحرانوں کے اثرات سے مکمل طور پر باہر نہیں نکل سکی۔

عالمی منڈیوں کا فوری ردعمل اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔ معاہدے کی خبروں کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی اور اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی اس امر کا واضح اشارہ ہے کہ سرمایہ کار اور کاروباری حلقے امن کو معاشی ترقی کی بنیاد سمجھتے ہیں۔ سرمایہ ہمیشہ استحکام کی طرف مائل ہوتا ہے جب کہ جنگ اور غیر یقینی صورتحال سرمایہ کاری کو محدود کر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی اقتصادی قوتیں اس امر کی خواہاں ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم ہو اور توانائی کی فراہمی معمول کے مطابق جاری رہے۔

  اس سارے منظرنامے میں ایک اور اہم حقیقت بھی قابل غور ہے۔ دنیا کے عوام کی غالب اکثریت جنگ کے خاتمے کی خواہش رکھتی ہے۔ اقوام متحدہ، یورپی یونین، خلیجی ممالک اور متعدد بین الاقوامی ادارے بارہا اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ تنازعات کا حل مذاکرات اور سفارت کاری میں پوشیدہ ہے۔ جدید دنیا کے بڑے مسائل، خواہ وہ اقتصادی ہوں، ماحولیاتی ہوں یا سلامتی سے متعلق، کسی ایک ملک کی طاقت سے حل نہیں ہوسکتے۔ ان کے لیے اجتماعی دانش، بین الاقوامی تعاون اور مسلسل مکالمے کی ضرورت ہے۔

یہی وجہ ہے کہ امن کے لیے کی جانے والی ہر کوشش کو عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہوتی ہے۔اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں طاقت کا عنصر ہمیشہ نمایاں رہا ہے۔ مختلف ریاستیں اپنے قومی مفادات، سلامتی کے خدشات اور علاقائی اثر و رسوخ کے حصول کے لیے سرگرم رہتی ہیں۔ تاہم تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی برتری عموماً عارضی ثابت ہوتی ہے جب کہ دیرپا استحکام کا انحصار سیاسی مفاہمت پر ہوتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ جب بھی جنگی ماحول پیدا ہوتا ہے تو اس کے اثرات سرحدوں سے بہت آگے تک محسوس کیے جاتے ہیں۔

مہاجرین کے بحران، توانائی کی قلت، تجارتی رکاوٹیں اور مالیاتی عدم استحکام پوری دنیا کو متاثر کرتے ہیں۔ اس پورے عمل میں پاکستان کا کردار خصوصی توجہ اور تحسین کا مستحق ہے، اگر ایران کی جانب سے بیان کردہ اطلاعات کے مطابق اسلام آباد کی ثالثی اور سفارتی کوششوں نے اس مفاہمتی یادداشت کی تیاری میں معاونت کی ہے تو یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کے تعلقات امریکا کے ساتھ بھی موجود ہیں اور ایران کے ساتھ بھی تاریخی، مذہبی، ثقافتی اور جغرافیائی روابط استوار ہیں۔ یہی منفرد حیثیت اسے بعض مواقع پر پل کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔پاکستان نے ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ خطے کے مسائل کا حل مذاکرات اور سیاسی مفاہمت میں ہے۔

اس کی خارجہ پالیسی کا بنیادی مقصد بھی خطے میں امن، استحکام اور اقتصادی تعاون کا فروغ رہا ہے۔ موجودہ حالات میں اگر پاکستان نے پس پردہ سفارت کاری کے ذریعے فریقین کو قریب لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ اس امر کا ثبوت ہے کہ عالمی سیاست میں صرف عسکری طاقت ہی نہیں بلکہ دانشمندانہ سفارت کاری بھی اہمیت رکھتی ہے۔ یہ پاکستان کے لیے بین الاقوامی سطح پر مثبت تشخص کے فروغ کا بھی ایک موقع ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے معاہدے کے قریب ہونے کا اظہار دراصل اسی اعتماد کی عکاسی کرتا ہے جو سفارتی سطح پر پیدا ہوا ہے۔

اگر یہ عمل کامیابی سے مکمل ہوتا ہے تو پاکستان نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کے طور پر ابھرے گا بلکہ خطے میں امن کے فروغ کے لیے اس کی کاوشوں کو بھی عالمی سطح پر سراہا جائے گا۔ ایسے وقت میں جب دنیا مختلف محاذوں پر تقسیم اور کشیدگی کا شکار ہے، مفاہمت کے لیے کردار ادا کرنے والے ممالک کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ عالمی سیاست کے موجودہ دور میں ایک اور اہم تبدیلی یہ بھی ہے کہ معاشی مفادات اب عسکری فتوحات سے کہیں زیادہ اہم ہوچکے ہیں۔

اکیسویں صدی کی طاقت کا معیار صرف ہتھیار نہیں بلکہ اقتصادی ترقی، ٹیکنالوجی، تجارت اور انسانی وسائل ہیں۔ جو ممالک اپنے وسائل جنگوں میں ضایع کرتے ہیں وہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں، جب کہ امن اور استحکام کو ترجیح دینے والی قومیں خوشحالی کی نئی منزلیں طے کرتی ہیں۔ اس تناظر میں ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمت کی کوئی بھی پیش رفت دونوں ممالک سمیت پورے خطے کے لیے فایدہ مند ثابت ہوسکتی ہے۔

 آج دنیا ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں اسے نئے تصادم نہیں بلکہ نئے معاہدوں کی ضرورت ہے۔ اسے نئی جنگوں نہیں بلکہ نئے اقتصادی مواقع درکار ہیں۔ اسے نفرت اور انتقام کی سیاست سے زیادہ مکالمے اور باہمی احترام کے کلچر کی ضرورت ہے، اگر ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی عمل اس سمت میں ایک قدم ثابت ہوتا ہے تو یہ صرف ایک معاہدے کی کامیابی نہیں ہوگی بلکہ اس تصور کی فتح ہوگی کہ اختلافات کے باوجود امن ممکن ہے۔یہ امید کی جانی چاہیے کہ تمام فریق دانشمندی، تحمل اور دور اندیشی کا مظاہرہ کریں گے۔ معاہدے کے الفاظ سے زیادہ اہم اس کی روح ہوگی، اور اس کی روح اسی وقت زندہ رہ سکتی ہے جب فریقین اپنے وعدوں کی پاسداری کریں، اشتعال انگیزی سے گریز کریں اور مستقبل کے تنازعات کے حل کے لیے سفارتی ذرائع کو ترجیح دیں، اگر ایسا ہوتا ہے تو آبنائے ہرمز صرف بحری جہازوں کے لیے نہیں بلکہ امن، استحکام اور اقتصادی بحالی کے امکانات کے لیے بھی کھل جائے گی۔ دنیا کو آج اسی خبر کی ضرورت ہے۔

ایک ایسی خبر جو بارود کی بو کے بجائے امن کی خوشبو لے کر آئے، جو منڈیوں میں خوف کے بجائے اعتماد پیدا کرے، جو قوموں کو تصادم کے بجائے تعاون کی طرف لے جائے اور جو یہ ثابت کرے کہ انسانی تاریخ میں مکالمہ ہمیشہ جنگ سے زیادہ طاقتور رہا ہے، اگر آنے والے دنوں میں یہ معاہدہ حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے تو اسے صرف ایک سفارتی دستاویز نہیں بلکہ ایک ایسے عہد کے آغاز کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس میں طاقت کے شور پر امن کی آواز غالب آگئی۔