ایرانی عوام نے ملک ٹوٹنے نہیں دیا
روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے حال ہی میں ایرانی عوام کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی عوام کی حب الوطنی نے ایران کو ٹکڑوں میں تقسیم ہونے سے بچا لیا ہے ۔ اس کے باوجود کہ ایرانی عوام معاشی سمیت ہر طرح کے تباہ کن مصائب کا شکار ہیں ۔ 50لاکھ ایرانی عوام نے چند دن پیشتر ایران پر اپنی جان قربان کرنے کے لیے رجسٹریشن کروائی ہے اس پر روسی صدر دوبارہ ایرانی عوام کی تعریف کرنے پر مجبور ہو گئے ۔
صدر پیوٹن نے امریکی سامراجی پروپیگنڈہ کو رد کرتے ہوئے اسے خلاف حقیقت قرار دیا کہ دوران جنگ نہ ایران نے ہم سے اسلحہ مانگا نہ ہم نے اس کو فراہم کیا ۔امریکی سامراجی میڈیا اتنا طاقتور ہے اس کا اندازہ اس سے لگائیں کہ روسی صدر کا یہ بیان پاکستانی عوام تک نہیں پہنچ سکا ۔ اب کوئی قوم بے حمیت ہی ہو گی کہ اس کے سامنے امریکا اور اسرائیل اس کے ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے کھلم کھلا منصوبے بنا رہے ہوں ۔ بقول صدر ٹرمپ ایران میں خانہ جنگی کے لیے کردوں میں بہت بڑے پیمانے پر اسلحہ تقسیم کیا لیکن کردوں نے اسلحہ وصول کرنے کے باوجود ایران کے خلاف استعمال ہونے سے انکار کرکے امریکا اور اسرائیل کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔
عوام کا اپنی جان وطن پر قربان کرنا کوئی معمولی بات نہیں ۔ باتیں کرنی بہت آسان ہیں ۔ اب آپ وینزویلا کو ہی دیکھ لیں کہ امریکا کو اس کے اعلی اداروں میں سہولت کار اور مدد گار مل گئے۔ چنانچہ امریکا نے بڑی آسانی سے بغیر کسی خون خرابے کے وینزویلا کے صدر اور اس کی بیوی کو اغوا کرکے ہتھکڑی لگا کر امریکا پہنچا دیا ۔ یہ ہے جرات رکھنے اور نہ رکھنے والی قوم میں فرق ۔ وینزویلا کے عوام سوائے احتجاج اور مذمتی بیانات کے علاوہ کچھ بھی نہ کر سکے ۔ کیونکہ ان کے برسراقتدار گروہ امریکی سامراج کے ہاتھ بک گئے ۔ نہ صرف برسر اقتدار گروہ بلکہ میڈیا سمیت تمام اہم اداروں میں ایسے افراد مل گئے جنہوں نے ملکی قومی مفادات سے غداری کرتے ہوئے اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دی۔
ہم اگر انسانی تاریخ کے ہزاروں برسوں پر نظر دوڑائیں تو کلمہ حق کہنے والے بہت تھوڑے تھے۔ جب کہ اکثریت نے اپنی جان اور ذاتی مفادات کا اسیر ہوتے ہوئے ظالم قوتوں کی نہ صرف حمایت کی بلکہ مدد گار بنے ۔ لیکن وہ قلیل تعداد جو ظلم کے خلاف اٹھی وہ آج بھی زندہ اور پائندہ ہے ۔ لوگ آج بھی اُن کی عظیم قربانی کی مثال سامنے رکھتے ہوئے ظالم کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں ۔ ہر قسم کے خوف اور تباہی کو پس پشت ڈالتے ہوئے ۔
ایک طرف ظالم ہو اور اس کی مدد گار ظالم قوتیں ہوں اور تمام دنیا کے وسائل اُن کے پاس ہوں تو اس کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر ناں کرنا پتہ پانی کرنے والی بات ہے ۔ تاریخ میں ایسی بہت سی مثالوں کے علاوہ ایک انوکھی مثال ایسی بھی ہے کہ جب صرف 72افراد نے اپنے وقت کی ظالم قوت کے خلاف جو ہزاروں افواج پر مشتمل تھی، اس کی اطاعت ماننے سے انکار کردیا۔ جس میں ایک 6ماہ کا شیر خوار کا بچہ بھی شامل تھا۔ حالانکہ ایک طرف موت جس میں جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجانے تھے ۔ لیکن ان کے پائے ثبات میں ذرہ برابر بھی لرزش نہیں آئی کیونکہ انھیں یقین کامل تھا کہ وہ حق اور سچ پر ہیں ۔
یہ مذاق نہیں نہ کوئی ڈرامہ ہے کہ ایک طرف سامنے ہزاروں ننگی تلواریں ، نیزے ، بھالے اور تیر ہوں اور دوسری طرف دنیا کی پیشکش ۔ تو انھوں نے دنیا کو ٹھوکر مار کر اس ابدی زندگی کو اپنا لیا جس پر انسانوں کے سر آج بھی عقیدت سے جھک جاتے ہیں ۔ ظالم قوتوں نے اسی پر بس نہیں کی۔ حقائق اور سچ کو مٹانے کے لیے صدیوں تک کوششیں کی گئیں ۔ لازوال قربانیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے اپنے اپنے وقت کی بیشتر بااثر قوتوں کو خرید لیا گیا۔ لیکن سچ اور حق ان سازشوں سے کہاں چھپتا ہے ۔ کیونکہ آج کے جدید دور نے باطل کو ایسا بے نقاب کیا کہ اس کے حمایتی صدیوں بعدآخر کار شکست کھا گئے ۔
روسی صدر نے کہا ہے کہ مکمل فتح تک یوکرین سے کوئی مذاکرات نہیں ہونگے ۔ یوکرینی صدر کا اس وقت مجھ سے بات کرنا میری توہین ہے ۔ صورت حال یہ ہے کہ یوکرین کے پیچھے پورا امریکا اور یورپ ہے ۔ کیوں اس لیے کہ یوکرینی صدر کو سامراجی سازش کے ذریعے صدر بنایا گیا تاکہ روسی قوت کا خاتمہ کیا جا سکے جو امریکا اور یورپی سامراج کی صدیوں کی بالا دستی کا خاتمہ کر سکتا ہے ۔ اس وقت روس اور چین رہ گئے ہیں جو دنیا کو امریکی سامراجی غلامی سے نجات دلا سکتے ہیں اس جنگ میں روس کے لاکھوں افراد مارے گئے۔ یوکرین کی بھی بڑی تعداد ماری گئی لیکن ہمارے میڈیا میں اس کا ذکر کم آتا ہے ۔ عالمی میڈیا یوکرین کو ہی مظلوم بنا کر پیش کرتا ہے ۔ روسی قوم کی اپنے ملک پر جانثاری کی ایک تاریخ ہے ۔ ہٹلر کا انھوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا لیکن روس پر قبضہ نہیں ہونے دیا۔
امریکا ایران ڈیل کا مستقبل کیا ہوگا ۔ اس کا پتہ وسط جون سے آخر جون کے درمیان چلے گا۔