برطانیہ کا بڑا فیصلہ، 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا بند کرنے کا اعلان

برطانوی حکومت نے اس منصوبے پر عملدرآمد کے لیے گزشتہ ماہ عوامی مشاورت کا عمل شروع کیا تھا

لندن: برطانیہ کی حکومت نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کا کہنا ہے کہ بچوں کی ذہنی اور جسمانی صحت کے تحفظ کے لیے یہ ایک ضروری اور درست قدم ہے۔

برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا کہ حکومت 16 سال سے کم عمر تمام بچوں کی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی محدود کرے گی۔ ان کے مطابق کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی ہی بہترین حل ہے تاکہ انہیں آن لائن خطرات اور اسکرین کے حد سے زیادہ استعمال سے محفوظ رکھا جا سکے۔

برطانوی حکومت نے اس منصوبے پر عملدرآمد کے لیے گزشتہ ماہ عوامی مشاورت کا عمل شروع کیا تھا۔ اس مشاورت کا مقصد بچوں کے سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل آلات کے استعمال کو محدود کرنے کے مختلف طریقوں کا جائزہ لینا تھا۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ بچوں کی بڑھتی ہوئی اسکرین ٹائم عادات ان کی تعلیم، ذہنی صحت، جسمانی سرگرمیوں اور سماجی روابط پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہیں۔ اسی لیے نئی پالیسی کے ذریعے بچوں کی توجہ موبائل فون، ٹیبلیٹس اور لیپ ٹاپ اسکرینز سے ہٹا کر تعلیم، کھیلوں اور صحت مند سرگرمیوں کی جانب مبذول کروانے کی کوشش کی جائے گی۔

ماہرین تعلیم اور بچوں کی نفسیات سے وابستہ حلقوں نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیا ہے، جبکہ بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ پابندی کے نفاذ اور عمر کی تصدیق کے نظام کو مؤثر بنانا حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔

برطانوی حکومت آئندہ مہینوں میں اس حوالے سے مزید تفصیلات اور قانون سازی کا خاکہ پیش کر سکتی ہے، جس کے بعد سوشل میڈیا کمپنیوں پر بھی نئی ذمہ داریاں عائد ہونے کا امکان ہے۔

یہ اقدام دنیا بھر میں کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر بڑھتی ہوئی تشویش کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں مختلف ممالک آن لائن تحفظ اور ڈیجیٹل فلاح و بہبود کے لیے نئی پالیسیاں متعارف کرا رہے ہیں۔

Load Next Story