اسرائیل کا غزہ میں حماس کے 2 کمانڈرز کو شہید کرنے کا دعویٰ؛ ویڈیو بھی جاری کردی
جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج کے غزہ پر حملوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے جس میں حماس کے دو کمانڈرز سمیت متعدد شہری شہید اور زخمی ہوگئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ترجمان اسرائیلی فوج کے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وسطی غزہ میں ہونے والے حملے میں صالح رمضان محمد خلیفہ جبکہ شمالی غزہ میں محمد موسیٰ دیاب البل کو نشانہ بنایا گیا۔
ترجمان اسرائیلی فوج کا مزید کہنا ہے کہ انٹیلی جنس بنیاد پر کی گئی اس کارروائی کے دوران شہریوں کو نقصان سے بچانے کے لیے درست نشانہ باز ہتھیاروں اور فضائی نگرانی کا استعمال کیا گیا۔
اسرائیلی فوج کے اس دعوے کے جواب میں حماس کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب فلسطینی ذرائع کے مطابق شمالی غزہ سٹی میں ایک اسرائیلی ڈرون حملے میں دو افراد شہید ہوگئے جن میں ایک بچہ بھی شامل تھا۔
חיל-האוויר תקף במרכז רצועת עזה מוקדם יותר היום (ב׳), וחיסל את המחבל צאלח רמדאן מחמד חליפה, ראש חולייה בגדוד נוציראת בארגון הטרור חמאס.
— Israeli Air Force (@IAFsite) June 15, 2026
בתקיפה נוספת בצפון הרצועה, חיל-האוויר חיסל את המחבל מחמד מוסא דיאב הביל, ראש חולייה בגדוד מערב ג'באליה בארגון הטרור חמאס. pic.twitter.com/pAH1Jf02cu
غزہ کی وزارت صحت نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے شیخ رضوان کے علاقے ابو اسکندر میں ایک گھر پر ڈرون برسا دیا جس میں درجنوں افراد رہائش پذید تھے۔
ڈرون حملے میں بچے سمیت 2 فلسطینی شہید جبکہ متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
اسرائیلی فوج نے اس تازہ حملے پر فوری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا تاہم ماضی میں اسرائیل کا مؤقف رہا ہے کہ اس کی کارروائیوں کا ہدف مسلح گروپوں کے ارکان ہوتے ہیں۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ حملے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ امدادی کارکنوں نے ملبے سے زخمیوں کو نکال کر اسپتال منتقل کیا۔
غزہ کے طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقے میں بچوں اور خواتین سمیت متعدد خاندان رہائش پذیر تھے۔
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب غزہ میں جنگ بندی کے دعووں کے باوجود اسرائیلی فوج کی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔
حالیہ ہفتوں کے دوران غزہ سٹی، جبالیہ، بیت لاہیا اور خان یونس سمیت مختلف علاقوں میں ڈرون اور فضائی حملوں میں درجنوں فلسطینی جاں بحق اور زخمی ہو چکے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق غزہ میں جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد بھی تقریباً روزانہ کی بنیاد پر حملے رپورٹ ہو رہے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں اور امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل بمباری اور سرحدی پابندیوں کے باعث شہری آبادی شدید انسانی بحران کا شکار ہے۔
طبی ذرائع کے مطابق غزہ میں اکتوبر 2023 سے جاری جنگ کے دوران شہید ہونے والے اور زخمیوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے جبکہ اسپتالوں کو ادویات، ایندھن اور طبی سامان کی شدید قلت کا سامنا ہے۔