کمرشل گاڑیوں کی درآمدی پالیسی میں تاخیر سے قومی خزانے کو 125 ارب روپے کا نقصان ہوا، فیصل واوڈا
فوٹو- فائل
سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ کمرشل گاڑیوں کی درآمدی پالیسی میں تاخیر کے باعث قومی خزانے کو صرف 8 ماہ میں 125 ارب روپے کا نقصان ہوا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں فیصل واوڈا اور ہارون اختر آمنے سامنے آگئے سینیٹ کمیٹی اجلاس میں کمرشل گاڑیوں کی درآمدی پالیسی پر گرما گرم بحث ہوئی۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں کمرشل گاڑیوں کی درآمدی پالیسی پر سینیٹر فیصل واوڈا اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر آمنے سامنے آگئےجہاں پالیسی میں تاخیر، قومی خزانے کو مبینہ نقصان اور حکومتی ذمہ داریوں پر سخت سوالات اٹھائے گئے۔
سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کمرشل گاڑیوں کی درآمد، آٹو سیکٹر کی پالیسی اور گاڑیوں کے سیفٹی اسٹینڈرڈز پر تفصیلی غور کیا گیا اس دوران سینیٹر فیصل واوڈا نے الزام عائد کیا کہ کمرشل گاڑیوں کی درآمدی پالیسی میں تاخیر کے باعث قومی خزانے کو آٹھ ماہ کے دوران 125 ارب روپے کا نقصان ہوا۔
اجلاس میں ہارون اختر نے فیصل واوڈا سے استفسار کیا کہ انہوں نے 125 ارب روپے کی کرپشن کا الزام لگایا تھا، اس حوالے سے شواہد پیش کیے جائیں۔ اس پر فیصل واوڈا نے جواب دیا کہ انہوں نے دوبارہ معاملہ پڑھا اور ان کے مطابق یہ براہ راست کرپشن نہیں بلکہ ریونیو کا نقصان تھا۔
فیصل واوڈا نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر حکومتی غفلت، تاخیر یا اجارہ داری کی وجہ سے قومی خزانے کو نقصان پہنچا ہے تو اس کی بھی ذمہ داری طے ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار متاثر ہو رہا ہے اور ہر ماہ تقریباً 20 ارب روپے کے ریونیو کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
اس موقع پر ہارون اختر نے کہا کہ اگر ٹی وی پر کرپشن کا الزام لگایا گیا ہے تو پھر اب اسے صرف ریونیو نقصان قرار دینا تضاد ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت متعلقہ معاملات کی تحقیقات کرے گی۔
وزیر سائنس و ٹیکنالوجی خالد مگسی نے بھی معاملے کی تحقیقات کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی غفلت یا کوتاہی کی وجہ سے نقصان ہوا ہے تو اس کا جائزہ لیا جائے گا۔
اجلاس کے دوران وزارت صنعت و پیداوار کے سیکرٹری نے بتایا کہ موٹر وہیکلز کا کاروبار اور گاڑیوں کے معیار کی جانچ پڑتال انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 25 ہزار افراد ٹریفک حادثات میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور عالمی معیار کے مطابق گاڑیوں کے سیفٹی اسٹینڈرڈز اور ٹائپ اپروول کا نظام ناگزیر ہے۔
سیکرٹری سائنس و ٹیکنالوجی شاہد بلوچ نے کمیٹی کو بتایا کہ وزارت کے پاس گاڑیوں کے معیار کی جانچ کے لیے مطلوبہ لیبارٹری موجود نہیں، جس پر مختلف وزارتوں کے نمائندوں کے درمیان ذمہ داریوں کے تعین پر بحث بھی ہوئی۔
فیصل واوڈا نے مطالبہ کیا کہ کمرشل گاڑیوں کی درآمد سے متعلق جاری کردہ نوٹیفکیشن واپس لیا جائے کیونکہ اس سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت خود یہ تسلیم کر چکی ہے کہ پری اور پوسٹ انسپیکشن کا نظام پہلے سے موجود ہے، اس لیے موجودہ پابندیاں اور شرائط غیر ضروری ہیں کمیٹی نے تفصیلی غور و خوض کے بعد حکومت کو سفارش کی کہ کمرشل گاڑیوں کی درآمد کے حوالے سے جاری نوٹیفکیشن واپس لیا جائے۔
کمیٹی نے انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے نوٹیفکیشن پر بھی نظرثانی کی سفارش کرتے ہوئے متعلقہ وزارتوں کو فوری اقدامات کی ہدایت کی اجلاس میں معاون خصوصی ہارون اختر نے یہ بھی بتایا کہ حکومت سولر پالیسی، موبائل پالیسی، آٹو پالیسی اور بیٹری پالیسی پر کام کر رہی ہے تاکہ صنعتی ترقی اور سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔