’کالا ہرن‘ تنازع، سلمان خان عدالت پہنچ گئے، گووند نامدیو کو قانونی نوٹس
بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان سے منسوب سمجھی جانے والی فلم ’’کالا ہرن‘‘ کے گرد تنازعات میں مزید شدت آ گئی ہے۔ ایک طرف سلمان خان نے فلم کی ریلیز رکوانے کے لیے عدالت سے رجوع کر لیا ہے، تو دوسری جانب فلم سے لاتعلقی اختیار کرنے والے سینئر اداکار گووند نامدیو کو پروڈیوسر کی جانب سے قانونی نوٹس بھی بھجوا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلم کے پروڈیوسر امیت جانی نے دعویٰ کیا ہے کہ گووند نامدیو کو سات روز کے اندر عوامی معافی مانگنے اور پروڈکشن ہاؤس کو 50 لاکھ بھارتی روپے ہرجانہ ادا کرنے کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ پروڈیوسر کا کہنا ہے کہ مقررہ مدت میں جواب نہ دینے کی صورت میں مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔
فلم ابتدا ہی سے خبروں کی زینت بنی ہوئی ہے کیونکہ اسے 1998 کے مشہور کالا ہرن شکار کیس سے جوڑا جا رہا ہے، جس میں سلمان خان کا نام سامنے آیا تھا۔ تنازع اس وقت مزید بڑھ گیا جب فلم کے پروموشنل مواد میں ’’ایان خان‘‘ نامی ایک کردار متعارف کرایا گیا، جسے کئی حلقوں نے سلمان خان سے مشابہ قرار دیا۔
اداکار گووند نامدیو نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ انہیں فلم کے اصل موضوع سے لاعلم رکھا گیا۔ ان کے مطابق جب انہوں نے ٹریلر دیکھا تو وہ حیران رہ گئے کیونکہ جو کہانی انہیں سنائی گئی تھی، تیار ہونے والی فلم اس سے بالکل مختلف نکلی۔ انہوں نے کہا کہ ابتدا میں انہیں بتایا گیا تھا کہ وہ ’’سنبل‘‘ نامی فلم کا حصہ بن رہے ہیں، لیکن بعد میں منصوبے کا رخ مکمل طور پر بدل گیا۔
گووند نامدیو کے مطابق انہیں صرف ایک طویل عدالتی کارروائی پر مبنی کردار کے بارے میں بتایا گیا تھا اور یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ فلم میں صرف وہی مواد شامل ہوگا جو عدالتی ریکارڈ کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں معلوم ہوتا کہ فلم کو اس انداز میں پیش کیا جائے گا تو وہ کبھی اس کا حصہ نہ بنتے۔
دوسری جانب پروڈیوسر امیت جانی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ گووند نامدیو فلم کے اسکرپٹ اور اس کی سمت سے مکمل طور پر آگاہ تھے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اداکار نے نہ صرف مکمل اسکرپٹ پڑھا تھا بلکہ عدالتی مناظر کی شوٹنگ بھی کی تھی، جس سے کہانی کے پس منظر کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔ پروڈیوسر کے مطابق گووند نامدیو معاہدے کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور سلمان خان سے جڑے تنازع سے خود کو دور رکھنے کے لیے یہ مؤقف اختیار کر رہے ہیں۔
ادھر سلمان خان نے بھی دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے فلم کی نمائش روکنے کی درخواست دائر کر دی ہے۔ ان کے وکلا کا مؤقف ہے کہ فلم کالا ہرن شکار کیس سے متاثر ہو کر بنائی گئی ہے اور اس میں اداکار کی شخصیت اور شناخت کو غیر مجاز طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ عدالت نے فلم کے پروڈیوسر امیت جانی، اکشے پانڈے اور دیگر متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں جبکہ کیس کی سماعت 19 جون کو متوقع ہے۔
شدید تنازعات کے باوجود فلم ساز اب بھی یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ’’کالا ہرن‘‘ ایک فرضی کہانی پر مبنی فلم ہے۔ فلم کے ڈسکلیمر میں کہا گیا ہے کہ تمام کردار اور واقعات خیالی ہیں اور اگر کسی حقیقی شخصیت یا واقعے سے مماثلت پائی جاتی ہے تو وہ محض اتفاق ہے، اگرچہ کہانی کو 1998 کے کالا ہرن شکار واقعے سے جزوی طور پر متاثر ضرور قرار دیا گیا ہے۔