پاکستان ریلوے منافع کی راہ پر

ماضی کی طرح ٹرینوں کی تاخیر مسلسل جاری ہے جس پر قابو نہیں پایا جا سکا۔

m_saeedarain@hotmail.com

وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے گزشتہ دنوں بیان دیا تھا کہ پاکستان ریلوے اپنے پاؤں پر کھڑی ہو گئی ہے اور خسارے سے نکل کر منافع کما رہی ہے اور ریلوے کی آمدنی بڑھانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کافی حد تک کامیاب رہے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ حنیف عباسی کو وزیر ریلوے بنایا گیا تو ریلوے کے اخراجات میں کمی، آمدنی اور کرائے بڑھانے پر توجہ رکھی ہے، جس کے نتیجے میں ریلوے کی آمدنی بڑھی ہے۔

تاہم مسافروں کے لیے کئی مشکلات بھی سامنے آرہی ہیں، پہلے بڑے سائز کے کمپیوٹرائزڈ اچھے کاغذ پر بنے ٹکٹ جاری ہوتے تھے جن پر تفصیلات نمایاں طور پر درج ہوتی تھیں اور پشت پر مکمل تفصیلات اور ہدایات لکھی ہوتی تھیں۔ یوں مسافروں کو ریلوے قوانین سے آگاہی حاصل ہوتی تھی۔ مگر اب ہلکے کاغذ پر چھوٹے سائز کے ٹکٹ پر سامنے کی تحریر بہ مشکل نظر آتی ہے جب کہ پشت خالی اور ٹکٹ کا کاغذ چھوٹا ہونے کے ساتھ بوسیدہ بھی ہے جو پسینے سے خراب بھی ہو جاتا ہے۔

پہلے ریلوے ٹکٹ بڑا اور دو حصوں پر مشتمل ہوتا تھا اور مسافر ایک حصہ اپنے پاس محفوظ رکھ سکتا تھا مگر اب ٹکٹ مکمل واپس کرنا پڑتا ہے۔ ریلوے کے پرانے کمپیوٹرائزڈ بڑے سائز کے ٹکٹ پر اردو اور انگریزی میں درج ہدایات سے ٹکٹ کی ریزرویشن، ٹکٹ کینسل کرانے کی تفصیلات درج تھیں۔

ٹرین نکل جانے کی صورت میں متعلقہ اسٹیشن پر ٹکٹ کینسل کرانے اور کچھ رقم واپس کرنے کے لیے ایک فارم جمع کرانا پڑتا تھا اور مسافروں کو ایک ماہ میں کچھ رقم کی واپسی کا کہا تو جاتا تھا مگر مسافر کو کوئی اطلاع دی جاتی تھی نہ رقم واپس ملتی تھی۔ ریلوے کے نئے قانون میں مسافروں کو یہ سہولت ضرور ملی ہے کہ کسی وجہ سے ٹرین نکل جانے کی صورت میں دو گھنٹے کے اندر قریبی ریلوے اسٹیشن پر جا کر ٹکٹ کینسل کرا کر چالیس فیصد رقم ضرور واپس مل جاتی ہے ، ساری رقم ضایع نہیں ہوتی۔

ماضی کی طرح ٹرینوں کی تاخیر مسلسل جاری ہے جس پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ کراچی میں مسافر انٹریٹ کے ذریعے آنے والی گاڑیوں کی تفصیلات تو معلوم کر لیتے ہیں مگر ریلوے فونز کوئی اٹینڈ ہی نہیں کرتا کہ کراچی سے ٹرین ڈپارچر کی معلومات حاصل ہو سکیں۔یہ اچھی بات ہے کہ ریلوے اپنے پاؤں پر کھڑی اور اب منافع کمانے لگی ہے تو ریلوے کو خستہ حال بوگیوں کو کھڈے لائن لگا کر قابل استعمال بوگیاں ٹرین میں لگانا اور بوگیوں کی ضروری مرمت فوری کرا کر مسافروں کو سہولت فراہم کرنے پر توجہ دینی چاہیے تاکہ لوگ بسوں پر ٹرینوں کو ترجیح دیں کیونکہ ٹرینوں کا سفر سستا اور سہولت کا حامل ہوتا ہے۔

وزیر ریلوے کو بڑھتے ہوئے حادثات کا سدباب ہی نہیں بلکہ ذمے داروں کے خلاف کارروائی پر بھی توجہ دینا ہوگی کیونکہ آئے دن مختلف حادثات سے ریلوے کو مالی نقصان ہو رہا ہے جس سے آمدنی بھی متاثر ہوگی تو ریلوے اپنے وسائل سے کارکردگی کیسے بہتر بنا سکے گی، کیونکہ حکومت مسلسل ریلوے کو نظرانداز کر رہی ہے اور ریلوے کی بہتری اور ترقی کے لیے فنڈز نہیں دے رہی، ریلوے اپنے محدود وسائل سے ترقی کیسے کر سکے گی؟

Load Next Story