گندم خورد برد کیس میں سابق گودام انچارج کو 13 سال قید کی سزا، 10 لاکھ جرمانہ
گندم خورد برد کیس میں سابق گودام انچارج کو 13 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی گئی۔
خیبر پختونخوا کی اینٹی کرپشن عدالت نے چترال کے علاقے بمبوریت میں سرکاری گندم کے گودام سے لاکھوں روپے مالیت کی گندم خورد برد کرنے کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے گودام کے سابق انچارج عبدالجلیل کو 2 مختلف دفعات کے تحت مجموعی طور پر 13 سال قید کی سزا سنا دی۔
کیس کی سماعت صوبائی اینٹی کرپشن کورٹ کے اسپیشل جج آصف رشید نے کی۔
پراسیکیوشن کے مطابق ملزم عبدالجلیل نے چترال بمبوریت کے سرکاری گودام میں موجود گندم میں خورد برد کی تھی۔ تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ ملزم نے گودام سے 214 میٹرک ٹن گندم غائب کی، جس کے نتیجے میں سرکاری خزانے کو ایک کروڑ 13 لاکھ روپے کا نقصان پہنچا۔
پراسیکیوشن کے مطابق معاملے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ملزم کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا اور بعد ازاں باقاعدہ ٹرائل شروع کیا گیا۔ مقدمہ درج ہونے کے بعد ملزم نے عدالت سے ضمانت حاصل کر لی تھی، تاہم دورانِ ٹرائل پیش کیے گئے شواہد اور ریکارڈ کی بنیاد پر اس کے خلاف جرم ثابت ہو گیا۔
عدالت نے عبدالجلیل کو مجموعی طور پر 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی۔
فیصلے کے بعد اینٹی کرپشن عدالت نے ملزم کی ضمانت منسوخ کرتے ہوئے اسے فوری طور پر حراست میں لینے کا حکم دیا ۔ بعد ازاں مجرم کو ڈسٹرکٹ جیل سوات منتقل کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔