اپوزیشن نے سندھ کے بجٹ کو ہیر پھیر اور عوام دشمن قرار دے دیا
فوٹو فائل
سندھ اسمبلی میں موجود تمام اپوزیشن جماعتوں نے مشترکہ طور پرصوبے کے نئے مالی سال کے بجٹ کو الفاظ کو ہیر پھیر قرار دیتے ہوئے اس کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا یے کہ بجٹ بحث میں احتجاج کریں گے۔
ان خیالات کا اظہار ایم کیوایم پاکستان کے رہنماء اور سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی ۔تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر شبیر قریشی اور جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر محمد فاروق نے بدھ کو بجٹ اجلاس کے بائیکاٹ کے بعد سندھ اسمبلی کے میڈیا کارنر پر مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔
علی خورشیدی نے کہا کہ سندھ حکومت کی ڈھٹائی پر مبنی آمرانہ پالیسی ہے۔ بجٹ میں شہری سندھ کی نمائندگی نہیں ہے۔ مخصوص طبقہ بجٹ پیش کرتا ہے اس لیے ہم نے اس بجٹ کو مسترد کردیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قواعد و ضوابط کےمطابق پری بجٹ سیشن نہیں ہوا ہے۔متحدہ اپوزیشن سراپا احتجاج ہے۔ہر فورم پر ہر طریقے سےاحتجاج ہوگا ۔آمرانہ روئیے پر احتجاج تھا، دیہی شہری سندھ کو برباد کرنے پر احتجاج تھا۔مشترکہ ایجنڈا پر سب ساتھ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ابھی پارٹی شروع ہوئی ہے ابھی دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے پارلیمانی لیڈر افتخار عالم نے کہا کہ آمرانہ رویے کی وجہ سے بجٹ کو مسترد کرتےہیں پیپلزپارٹی نے ۔سندھ دھرتی کو لہولہان کیا ہوا یے۔ تعلیم صحت کی سہولیات ناکافی ہے جبکہ بجٹ میں کراچی کو مکمل نظر انداز کردیا گیا ہے، یہ بجٹ عوام دوست نہیں ہے۔
جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر محمد فاروق نے کہا کہ اپوزیشن کراچی اور صوبےکا مقدمہ لڑرہی ہے۔کراچی کا بجٹ میں 95فیصد حصہ ادا کرتاہے۔ کیا ہم ان کو پیسے ٹیکس دیتےرہیں۔ یہ اشرافیہ کا بجٹ کرپشن انڈسٹری کا بجٹ ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاق بھی کراچی کےساتھ سنجیدہ نہیں ہے، اس معاملے پر جماعت اسلامی اپنا احتجاج ریکارڈ کراتی رہےگی۔
پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر شبیر قریشی نے کہا کہ یہ کراچی حیدر آباد دشمن بجٹ ہے، ان کا وزیر کہتا ہےکہ میرے محکمے میں 2 ارب کی کرپشن ہوئی یے، اس معاملہ کی تحقیقات کی جائیں۔
اپوزیشن رہنماؤں نے کہا کہ تمام اپوزیشن جماعتیں بجٹ بحث کے دوران بھی احتجاج جاری رکھیں گی۔