مسجد اقصیٰ کی تاریخی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش؟ اسرائیل کی گھناؤنی سازش سامنے آگئی
یروشلم: اسرائیل کے بعض سخت گیر حکومتی عہدیداروں اور انتہا پسند دائیں بازو کے رہنماؤں پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ امریکا کے بعض حلقوں کے تعاون سے مسجد اقصیٰ کی تاریخی اور قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل میں بعض حلقے مسجد اقصیٰ کے احاطے کو باضابطہ طور پر ’کثیر المذاہب عبادت گاہ‘ قرار دینے کی تجویز پر کام کر رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسا اقدام صدیوں پرانے اس انتظام کے خلاف ہوگا جس کے تحت مسجد اقصیٰ کا انتظام و انصرام اردن کے زیر نگرانی اسلامی وقف کے پاس ہے۔
موجودہ اسٹیٹس کو کے مطابق غیر مسلم افراد مسجد اقصیٰ کا دورہ کر سکتے ہیں، تاہم انہیں وہاں مذہبی عبادات یا رسومات ادا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیل کے بعض انتہا پسند سیاست دان مسجد اقصیٰ میں یہودی عبادات کو وسیع پیمانے پر متعارف کرانے کے حامی ہیں۔ اسرائیلی دائیں بازو کے رہنما موشے فیگلن نے حال ہی میں مسجد اقصیٰ کے احاطے میں جا کر مذہبی نغمے گائے اور وہاں نئی عبادت گاہ تعمیر کرنے کے حق میں بیان دیا۔
دوسری جانب اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر بھی متعدد بار مسجد اقصیٰ کا دورہ کر چکے ہیں، جس پر فلسطینی اور عرب ممالک شدید اعتراض کرتے رہے ہیں۔ حالیہ ویڈیوز میں انہیں اسرائیلی جھنڈا لہراتے اور مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی حق ملکیت کے نعرے لگاتے ہوئے دیکھا گیا۔
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے مسجد اقصیٰ کی موجودہ حیثیت میں کسی بھی تبدیلی کے دعووں کی تردید کی ہے، تاہم فلسطینی، اردن اور دیگر علاقائی ممالک نے اس حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ادھر اسلامی وقف کونسل کے نائب سربراہ ڈاکٹر مصطفیٰ ابو سوئے نے خبردار کیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کی موجودہ حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش پورے خطے کے امن کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسجد اقصیٰ کے معاملے میں مداخلت مشرق وسطیٰ میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتی ہے۔
دریں اثنا مقبوضہ مغربی کنارے کے دو فلسطینی دیہات میں نامعلوم اسرائیلی آبادکاروں نے مساجد کو آگ لگا دی۔ مقامی حکام کے مطابق رام اللہ کے قریب واقع گاؤں جِلجِلیہ میں مسجد کے وضو خانے اور دیگر حصوں کو نقصان پہنچایا گیا جبکہ دیواروں پر عبرانی زبان میں اشتعال انگیز نعرے بھی تحریر کیے گئے۔
عینی شاہدین کے مطابق آگ لگنے سے مسجد کی چھت، دیواریں اور فرش بری طرح متاثر ہوئے۔ اسرائیلی فوج نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ جائے وقوعہ پر پہنچنے تک مشتبہ افراد فرار ہو چکے تھے اور ان کی تلاش جاری ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور مسجد اقصیٰ کی حیثیت سے متعلق بحث ایک بار پھر عالمی توجہ حاصل کر رہی ہے۔