آم ضرور کھائیں، مگر حد سے زیادہ نہیں! پسندیدہ پھل کے ممکنہ نقصانات بھی جان لیجیے
آم کو پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے اور گرمیوں میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جو اس کے ذائقے کا دلدادہ نہ ہو۔ یہ نہ صرف مزیدار بلکہ وٹامنز، منرلز اور دیگر غذائی اجزا سے بھرپور ہوتا ہے، تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ کسی بھی چیز کی طرح آم کا ضرورت سے زیادہ استعمال بھی صحت کے بعض مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق آم میں قدرتی شکر کی مقدار نسبتاً زیادہ ہوتی ہے، اسی لیے اس کا بے تحاشا استعمال بعض افراد میں جلد کے مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔ زیادہ میٹھا کھانے سے جسم میں سوزش بڑھ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں چہرے پر کیل مہاسوں کی شکایت پیدا ہونے یا پہلے سے موجود مہاسوں میں شدت آنے کا امکان رہتا ہے۔
آم کا حد سے زیادہ استعمال وزن بڑھنے کی ایک وجہ بھی بن سکتا ہے۔ چونکہ اس میں قدرتی مٹھاس وافر مقدار میں موجود ہوتی ہے، اس لیے جسمانی سرگرمی کم رکھنے والے افراد اگر زیادہ آم کھائیں تو اضافی کیلوریز وزن میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں۔
ہاضمے کے حوالے سے بھی احتیاط ضروری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت زیادہ آم کھانے سے بعض افراد کو پیٹ پھولنے، گیس بننے یا اسہال جیسی شکایات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، خاص طور پر اگر ان کی خوراک میں فائبر کا توازن مناسب نہ ہو۔
ذیابیطس یا انسولین مزاحمت کے شکار افراد کے لیے بھی آم کا اعتدال سے استعمال اہم ہے۔ آم میں موجود قدرتی شکر خون میں شوگر کی سطح کو تیزی سے بڑھا سکتی ہے، اس لیے ایسے افراد کو مقدار کے حوالے سے اپنے معالج کے مشورے پر عمل کرنا چاہیے۔
بعض لوگوں کو آم زیادہ کھانے کے بعد سینے میں جلن یا تیزابیت کی شکایت بھی ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر حساس معدے یا ہاضمے کے مسائل رکھنے والے افراد میں یہ کیفیت زیادہ دیکھی جا سکتی ہے۔
دانتوں کی صحت بھی اس سے متاثر ہو سکتی ہے۔ آم میں موجود شکر اگر منہ میں زیادہ دیر تک باقی رہے تو دانتوں کی خرابی اور کیویٹی بننے کے خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے، اسی لیے آم کھانے کے بعد منہ کی صفائی کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آم ایک صحت بخش اور غذائیت سے بھرپور پھل ہے، لیکن اس کے فوائد حاصل کرنے کے لیے اعتدال ضروری ہے۔ مناسب مقدار میں آم کھانا صحت کے لیے مفید ہے، جبکہ ضرورت سے زیادہ استعمال بعض ناپسندیدہ اثرات کا سبب بن سکتا ہے۔
نوٹ: یہ معلومات عمومی آگاہی کے لیے ہیں اور کسی بھی صورت طبی مشورے کا متبادل نہیں۔ صحت سے متعلق کسی بھی مسئلے کی صورت میں مستند ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔