ایران نے معاہدے کی خلاف ورزی پر سخت ردعمل کا انتباہ جاری کر دیا
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ اگر کسی بھی معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی یا فریق مخالف کی جانب سے غیر ضروری اور سخت مطالبات سامنے آئے تو ایران بھرپور اور فیصلہ کن ردعمل دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں قالیباف نے واضح کیا کہ ملک کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے معاہدے کی شقوں اور شرائط پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے جس پر سنجیدگی سے عمل کیا جا رہا ہے۔
گوشبفرمانیم، وظیفهٔ محولشده به ما توسط مقام معظم رهبری پیگیری تحقق شروط و بندهای تفاهم است.
در صورت بدعهدی، پیمانشکنی و زیادهخواهی طرف مقابل هیچ تردیدی در پاسخ کوبنده به دشمن نداریم.
یکبار در جنگ سیلی خوردند، اگر بخواهند دوباره همان مسیر را بروند سیلی محکمتری خواهند خورد.— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) June 18, 2026
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر معاہدے میں بد نیتی دکھائی گئی یا فریق مخالف نے وعدوں کی خلاف ورزی کی تو ایران سخت مؤقف اختیار کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات کی صورت میں جوابی ردعمل نہ صرف فوری ہوگا بلکہ پہلے سے زیادہ سخت اور فیصلہ کن ہوگا۔
محمد باقر قالیباف نے مزید کہا کہ ایران ماضی میں بھی جنگی حالات میں اپنے مؤقف پر قائم رہا ہے اور اگر دوبارہ اسی راستے پر مجبور کیا گیا تو اس بار جواب پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہوگا۔
انہوں نے زور دیا کہ ایران اپنی قومی سلامتی اور مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ہر صورتحال میں مؤثر ردعمل دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔