اپنی فوج کو حزب اللہ پر پوری طاقت سے حملے کرنے کا حکم دیدیا؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکا ایران کے درمیان معاہدہ ہوگیا لیکن اسرائیل کی جدوجہد باقی ہے؛ نیتن یاہو
لبنان میں اسرائیل کے خلاف برسرپیکار حزب اللہ کے تازہ حملوں سے تلملائے ہوئے وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنی فوج کو بھرپور حملوں کا حکم دے دیا
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے حملے میں 4 اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد فوج کو بھرپور جوابی حملے کا حکم دیدیا۔
وزیراعظم نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کھلی دھمکی دی کہ حزب اللہ کو بہت بھاری قیمت چکانا ہوگی۔ ملکی فوجیوں اور سرزمین پر حملوں کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے مزید کہا کہ ہماری افواج ہر اس خطرے کا خاتمہ کرے گی جو ملکی فوجیوں یا شہریوں کی سلامتی میں رکاوٹ ہوں۔ جس کے لیے اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں قائم سیکیورٹی زون میں ضرورت پڑنے تک موجود رہے گی۔
قبل ازیں اسرائیلی فوج کے ترجمان نے بتایا کہ جنوبی لبنان کے علاقے میں ایک مشتبہ ڈرون یا میزائل حملے میں 52ویں آرمرڈ بٹالین کے کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل ڈور گیڈیلیا بین سیمہون سمیت چار فوجی ہلاک ہوگئے۔
ترجمان اسرائیلی فوج کے بقول یہ حملہ حزب اللہ نے کیا تھا جس کی مزید تحقیقات ابھی جاری ہیں۔ حملے کے بعد اسرائیل کے متعدد سیاسی رہنماؤں نے لبنان کے خلاف مزید سخت فوجی کارروائیوں کا مطالبہ کیا۔
اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے کہا کہ لبنان کو سخت جواب دیا جانا چاہیے اور دعویٰ کیا کہ ہر اسرائیلی ماں کے آنسوؤں کے بدلے ہزار لبنانی ماؤں کو رونا چاہیے۔
ایک اور انتہا پسند وزیر خزانہ بیزالیل سموٹریچ نے بھی لبنان پر شدید حملوں کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اب آگ کی زبان میں بات کرنے کا وقت آ گیا ہے۔
سابق وزیر دفاع اویگڈور لیبرمین نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر اتنے بڑے حملے کے باوجود بیروت کے جنوبی علاقے داحیہ کو نشانہ نہیں بنایا جاتا تو یہ حکومت کی ناکامی ہوگی۔
دوسری جانب وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ حزب اللہ کی مسلسل جنگ بندی خلاف ورزیوں کے باعث اسرائیلی فوج جنوبی لبنان کے سکیورٹی زون میں اپنی موجودگی برقرار رکھے گی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ فوج ساحلی علاقوں سے لے کر بیوفورٹ کی پہاڑیوں تک دہشت گردی کے خطرات اور عسکری ڈھانچے کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی۔
ادھر اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ، اپوزیشن رہنما یائر لاپید، سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ، بینی گینٹز اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے ہلاک ہونے والے فوجیوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے زخمی اہلکاروں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔
بعض اپوزیشن رہنماؤں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فوجی کامیابیوں کو پائیدار سفارتی حل میں تبدیل کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے تاکہ سرحدی علاقوں میں بار بار جنگ کی نوبت نہ آئے۔