’کالا ہرن‘ فلم تنازع: سلمان خان کو عدالت سے فوری ریلیف نہ مل سکا

سلمان خان نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ فلم کی نمائش روکی جائے

بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان کو ان کی زندگی سے مشابہت رکھنے والی متنازع فلم ’’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگیسی‘‘ کے خلاف دائر مقدمے میں فوری کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ دہلی ہائی کورٹ نے کیس کی سماعت یکم جولائی تک ملتوی کرتے ہوئے عبوری ریلیف کی درخواست منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

جسٹس مدھو جین پر مشتمل بینچ نے سماعت کے دوران سلمان خان کی قانونی ٹیم کو ہدایت دی کہ وہ مقدمے سے متعلق تمام دستاویزات اور ریکارڈ فلم سازوں کے وکلاء کو فراہم کریں تاکہ وہ مکمل تیاری کے ساتھ اپنا مؤقف عدالت کے سامنے رکھ سکیں۔

سلمان خان نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ فلم کی نمائش روکی جائے کیونکہ ان کے مطابق اس میں 1998 کے مشہور کالا ہرن شکار کیس اور گینگسٹر لارنس بشنوئی کے ساتھ ان کے مبینہ تنازع کو ان کی اجازت کے بغیر فلمایا گیا ہے۔

عدالت میں سلمان خان کے وکیل سندیپ سیٹھی نے مؤقف اختیار کیا کہ فلم بنیادی طور پر ان کے مؤکل کی زندگی سے متاثر ہو کر بنائی جا رہی ہے، حالانکہ اس حوالے سے نہ تو ان سے اجازت لی گئی اور نہ ہی انہیں اس کا کوئی قانونی اختیار دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلم ساز سلمان خان کی شہرت، شناخت اور عوامی مقبولیت کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

وکیل نے مزید کہا کہ اگرچہ فلم میں سلمان خان کا نام براہ راست استعمال نہیں کیا گیا، تاہم مرکزی کردار، کہانی اور مختلف مناظر واضح طور پر ان کی شخصیت سے مماثلت رکھتے ہیں۔ انہوں نے عدالت کی توجہ فلم کے پروموشنل مواد کی جانب بھی دلائی، جہاں مرکزی کردار نہ صرف سلمان خان جیسا دکھائی دیتا ہے بلکہ ان کے مشہور فیروزی رنگ کے بریسلٹ سے ملتا جلتا بریسلٹ بھی پہنے ہوئے ہے۔

سلمان خان کی ٹیم نے یہ اعتراض بھی اٹھایا کہ فلم کے ٹیزر میں مرکزی کردار کو اسلحہ اٹھائے دکھایا گیا ہے، جو عوام میں غلط تاثر پیدا کر سکتا ہے، خاص طور پر اس حقیقت کے باوجود کہ سلمان خان حقیقی زندگی میں آرمز ایکٹ کے الزامات سے بری ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب فلم سازوں کے وکلاء نے فلم کی فوری نمائش روکنے کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں مقدمے کی مکمل دستاویزات موصول نہیں ہوئیں، اس لیے وہ ابھی جامع جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ انہوں نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ فلم کے موضوع کے باعث انہیں دھمکیوں اور شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے سلمان خان کی فوری ریلیف کی درخواست مسترد کرتے ہوئے آئندہ سماعت کے لیے یکم جولائی کی تاریخ مقرر کر دی۔

Load Next Story