چارسدہ: اندھے قتل کا معمہ حل، مدعی مقدمہ ہی اپنے بیٹے کا قاتل نکلا، آلہ قتل برآمد
فوٹو: فائل
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چارسدہ محمد وقاص خان کی ہدایات پر تنگی پولیس نے اندھے قتل کے ایک سنسنی خیز مقدمے کا سراغ لگا کر مقتول کے قاتل کو گرفتار کر لیا۔
ملزم نے اپنے ہی بیٹے کو قتل کرنے کے بعد واردات کو نامعلوم ملزمان کی کارروائی ظاہر کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم پولیس کی پیشہ ورانہ اور سائنسی بنیادوں پر کی گئی تفتیش نے اصل حقائق بے نقاب کر دیے۔
تفصلات کے مطابق مورخہ 14 جون 2026 کو سعید الرحمن ولد فیروز سکنہ ہیڈ کالونی تنگی نے تنگی کیجولٹی میں رپورٹ درج کراتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ نامعلوم ملزمان رات کے وقت گھر میں داخل ہوئے اور اس کے بیٹے محمد اسماعیل پر فائرنگ کر کے اسے قتل کر دیا۔
مدعی کے مطابق وہ فائرنگ کی آواز سن کر بیدار ہوا اور ایک ملزم کا گیٹ تک تعاقب کیا جبکہ دوسرا ملزم موٹر سائیکل پر موجود تھا، جس کے بعد دونوں ملزمان فرار ہو گئے۔
واقعہ کی حساسیت کے پیش نظر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چارسدہ محمد وقاص خان نے ڈی ایس پی تنگی گلشید خان کی سربراہی میں خصوصی تفتیشی ٹیم تشکیل دی، جس میں ایس ایچ او تھانہ تنگی عرفان خان، سی آئی او تنگی بسم اللہ جان اور دیگر افسران شامل تھے۔
ٹیم کو جدید خطوط پر تفتیش کرتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کے احکامات جاری کیے گئے۔تفتیشی ٹیم نے ٹیکنیکل شواہد، انسانی ذرائع اور دیگر دستیاب شواہد کی مدد سے تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا۔
دورانِ تفتیش اہم شواہد سامنے آئے جن سے معلوم ہوا کہ مقدمہ کا مدعی سعید الرحمن اپنے بیٹے محمد اسماعیل کے طرزِ عمل اور گھریلو معاملات کی وجہ سے کافی عرصے سے پریشان تھا۔
ابتدائی تفتیش کے مطابق اسی رنجش اور ذہنی دباؤ کے باعث ملزم نے طیش میں آکر اپنے بیٹے کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا اور بعد ازاں خود ہی نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرا کر پولیس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔
تاہم پولیس کی پیشہ ورانہ تفتیش کے نتیجے میں اصل حقائق سامنے آ گئے اور مدعی مقدمہ خود اپنے بیٹے کے قتل میں ملوث پایا گیا۔
پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا، جس نے دورانِ تفتیش اپنے جرم کا اعتراف بھی کر لیا۔ ملزم کی نشاندہی پر آلہ قتل پستول بھی برآمد کر لیا گیا۔
مزید برآں مقتول کی اہلیہ نے بھی اپنے سسر کے خلاف باقاعدہ دعویداری کر دی ہے۔پولیس نے ملزم کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی ہے جبکہ مقدمہ کے دیگر پہلوؤں پر مزید تفتیش جاری ہے۔