محنت کش عورتوں کی خاموش جدوجہد
فجر کی اذان کے ساتھ ہی میرپور ساکرو کی خاموش فضا میں زندگی کی ہلکی ہلکی آہٹیں سنائی دینے لگتی ہیں۔ رات کی تاریکی ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوتی کہ گلیوں اور محلوں کے دروازے کھلنا شروع ہو جاتے ہیں۔
کہیں چولہے پر چائے چڑھ رہی ہوتی ہے، کہیں ماں اپنے بچوں کے سروں پر ہاتھ پھیر کر دعائیں دے رہی ہوتی ہے اور کہیں ایک عورت جلدی جلدی اپنے گھر کے کام سمیٹ کر روزگار کے سفر کے لیے تیار ہو رہی ہوتی ہے۔
چند ہی لمحوں بعد ایک بس سڑک پر نمودار ہوتی ہے۔ بظاہر یہ ایک عام مسافر بس ہے، لیکن حقیقت میں اس کے اندر بیٹھے ہوئے لوگ صرف مسافر نہیں ہوتے۔ وہ اپنے ساتھ خواب، امیدیں، پریشانیاں، ذمے داریاں اور زندگی کی بے شمار کہانیاں لے کر سفر کر رہے ہوتے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد ان خواتین کی ہوتی ہے جو روزانہ کراچی اور اس کے نواحی علاقوں میں گھریلو ملازمت کے لیے جاتی ہیں۔
ضلع ٹھٹہ کے علاقے میرپور ساکرو اور اس کے گرد و نواح کے دیہات سے ہر روز سیکڑوں خواتین گھارو، دھابیجی، گھگھر، رزاق آباد، دھوراجی، ڈیفنس، بہادرآباد اور گلشن اقبال سمیت مختلف علاقوں کا رخ کرتی ہیں۔
ان کا سفر صرف جغرافیائی فاصلے طے کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ معاشی بقا کی ایک مسلسل جدوجہد ہے۔ان خواتین میں سے اکثر کا تعلق ایسے گھرانوں سے ہوتا ہے جہاں آمدنی کے ذرائع محدود ہیں۔ کسی کا شوہر بے روزگار ہے، کسی کے شوہر کی آمدنی ناکافی ہے، کسی کے سر سے شوہر کا سایہ اٹھ چکا ہے، جب کہ کچھ خواتین اپنے والدین یا بہن بھائیوں کی کفالت کی ذمے داری بھی نبھا رہی ہوتی ہیں، ان کے لیے گھر سے نکل کر کام کرنا محض ایک انتخاب نہیں بلکہ زندگی کی ضرورت ہے۔
صبح سویرے شروع ہونے والا یہ سفر شام گئے ختم ہوتا ہے۔ کئی خواتین روزانہ تین سے چار گھنٹے صرف آنے جانے میں گزار دیتی ہیں۔ گرمی ہو یا سردی، بارش ہو یا دھند، ان کی حاضری میں شاذ و نادر ہی کوئی فرق آتا ہے، اگر وہ ایک دن بھی کام پر نہ جائیں تو ان کی آمدنی متاثر ہو سکتی ہے،اور اس کا براہِ راست اثر ان کے گھر کے بجٹ پر پڑتا ہے۔
شہر پہنچنے کے بعد ان کی اصل آزمائش شروع ہوتی ہے۔ کسی گھر میں صفائی، کسی میں برتن دھونا، کہیں کپڑے دھونا، کہیں استری کرنا، کہیں بچوں کی دیکھ بھال اور کہیں کھانا پکانے کی ذمے داری ان کے سپرد ہوتی ہے۔
بعض خواتین ایک ہی دن میں تین یا چار گھروں میں کام کرتی ہیں۔ سارا دن مسلسل جسمانی مشقت کے باوجود ان کی آمدنی اکثر اتنی محدود ہوتی ہے کہ گھر کے بنیادی اخراجات ہی بمشکل پورے ہو پاتے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ جن گھروں کو یہ خواتین صاف ستھرا اور منظم رکھتی ہیں، انھی گھروں کے افراد اکثر ان کی زندگی کے مسائل سے بے خبر ہوتے ہیں۔ ایک گھریلو کارکن کی زندگی میں وقت کی پابندی، ٹرانسپورٹ کے اخراجات، بیماری کی صورت میں آمدنی کا رک جانا اور ملازمت کے عدم تحفظ جیسے مسائل مستقل موجود رہتے ہیں، لیکن ان مشکلات کا ذکر شاید ہی کبھی قومی مباحث کا حصہ بنتا ہو۔
ہمارے معاشرے میں گھریلو ملازمت کو اکثر ایک غیر رسمی شعبہ سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس شعبے سے وابستہ افراد کو وہ حقوق حاصل نہیں جو دیگر ملازمین کو حاصل ہوتے ہیں۔ بیشتر خواتین کے پاس تحریری معاہدہ نہیں ہوتا، تنخواہ کا کوئی معیاری نظام موجود نہیں ہوتا اور نہ ہی انھیں کسی قسم کی سماجی یا قانونی ضمانت حاصل ہوتی ہے،اگر ایک فیکٹری مزدور کے لیے مزدوری کے قوانین موجود ہیں، اگر سرکاری ملازمین کے لیے سروس اسٹرکچر اور پنشن کا نظام موجود ہے، تو پھر گھریلو کارکنوں کے لیے ایسے انتظامات کیوں نہیں؟ یہ سوال برسوں سے اپنی جگہ موجود ہے مگر اس کا تسلی بخش جواب ابھی تک سامنے نہیں آ سکا۔
حقیقت یہ ہے کہ گھریلو کارکن ہمارے شہری اور معاشی نظام کا ایک اہم حصہ ہیں اگر یہ خواتین کام پر نہ جائیں تو ہزاروں گھرانوں کی روزمرہ زندگی متاثر ہو سکتی ہے۔ ملازمت پیشہ خواتین اور مردوں کی بڑی تعداد اپنے پیشہ ورانہ فرائض اسی وقت انجام دے سکتی ہے جب ان کے گھروں میں روزمرہ امور سنبھالنے کے لیے کوئی معاون موجود ہو۔
اس اعتبار سے گھریلو کارکن صرف ایک فرد نہیں بلکہ پورے معاشی نظام کو سہارا دینے والی قوت ہیں۔ اس کے باوجود ان کے لیے نہ مناسب اجرت کا کوئی واضح معیار موجود ہے، نہ صحت کی سہولیات کی ضمانت اور نہ ہی بڑھتی عمر میں معاشی تحفظ کا کوئی انتظام، اگر کوئی گھریلو کارکن بیمار ہو جائے یا حادثے کا شکار ہو جائے تو اکثر اس کی آمدنی فوری طور پر بند ہو جاتی ہے۔
ایسے حالات میں پورا خاندان مشکلات کا شکار ہو جاتا ہے۔ سماجی تحفظ کے پروگرام یقیناً موجود ہیں، لیکن ان تک رسائی اور ان کے موثر نفاذ کے حوالے سے ابھی بہت کام ہونا باقی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت گھریلو کارکنوں کے لیے ایک جامع پالیسی مرتب کرے جس میں کم از کم اجرت، رجسٹریشن، صحت کی سہولیات، حادثاتی بیمہ اور قانونی تحفظ کو شامل کیا جائے۔
اس کیساتھ ساتھ محفوظ اور سستی ٹرانسپورٹ کی فراہمی بھی اہم ہے کیونکہ ان خواتین کی روزانہ زندگی کا بڑا حصہ سفر میں گزرتا ہے۔ غیر سرکاری تنظیموں، سماجی کارکنوں اور انسانی حقوق کے اداروں کو بھی اس حوالے سے فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ معاشرے کے خاموش طبقات کی آواز بننا ہی حقیقی سماجی خدمت ہے۔
جب تک پالیسی سازی کے مراکز میں ان خواتین کے مسائل کو سنجیدگی سے نہیں سنا جائے گا، ان کی مشکلات برقرار رہیں گی۔ اس مسئلے کا ایک سماجی پہلو بھی ہے۔ ہمیں بحیثیت معاشرہ اپنے رویوں پر بھی غور کرنا ہوگا۔
گھریلو کارکنوں کے ساتھ احترام، انصاف اور انسانیت پر مبنی سلوک صرف اخلاقی ذمے داری نہیں بلکہ ایک مہذب معاشرے کی پہچان بھی ہے۔ عزت صرف عہدے یا دولت کی بنیاد پر نہیں بلکہ انسان ہونے کے ناتے ہر فرد کا حق ہے۔ میرپور ساکرو سے روزانہ نکلنے والی یہ بس دراصل پاکستان کے محنت کش طبقے کی نمایندہ تصویر ہے۔
اس میں بیٹھے ہوئے لوگ ہمیں یہ یاد دلاتے ہیں کہ معاشرے کی اصل بنیاد وہ خاموش کارکن ہیں جو کسی شہرت یا ستائش کے بغیر اپنا کردار ادا کرتے رہتے ہیں۔ ان کے بغیر نہ گھر چل سکتے ہیں، نہ ادارے اور نہ ہی معیشت کا پہیہ رواں رہ سکتا ہے،اگر ہم واقعی ترقی یافتہ اور منصفانہ معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی توجہ ان لوگوں کی طرف مبذول کرنا ہوگی جو آج بھی ترقی کے ثمرات سے محروم ہیں۔
ترقی صرف انفرااسٹرکچر، منصوبوں اور اعداد و شمار کا نام نہیں۔ اصل ترقی وہ ہے جس میں ایک محنت کش عورت خود کو محفوظ، باعزت اور بااختیار محسوس کرے۔ شاید اگلی بار جب فجر کے وقت میرپور ساکرو سے کراچی جانیوالی بس اپنے سفر پر روانہ ہو تو ہمیں یاد رہے کہ اس میں بیٹھے ہوئے مسافر صرف مزدور نہیں، بلکہ اس معاشرے کی خاموش طاقت ہیں؛ وہ طاقت جس کے بغیر ترقی کا کوئی خواب مکمل نہیں ہو سکتا۔