صرف ڈیڑھ منٹ میں ذہنی تھکن کم کرنے کا طریقہ، ماہرین نے مؤثر مشق بتا دی

کام کا بڑھتا ہوا دباؤ اور غیر متوازن طرزِ زندگی آج کل لاکھوں افراد کو ذہنی اور جسمانی تھکن کا شکار بنا رہا ہے

دفاتر میں طویل اوقاتِ کار، مسلسل اسکرین کے سامنے بیٹھنا، کام کا بڑھتا ہوا دباؤ اور غیر متوازن طرزِ زندگی آج کل لاکھوں افراد کو ذہنی اور جسمانی تھکن کا شکار بنا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق دن کے درمیانی حصے میں توجہ کی کمی، سستی، ذہنی دھندلاہٹ اور چڑچڑے پن جیسے مسائل اب عام ہوتے جا رہے ہیں، تاہم ایک سادہ سی سانس کی مشق چند لمحوں میں اس کیفیت سے نکلنے میں مدد دے سکتی ہے۔

نیوروسائنس کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جب انسان شدید دباؤ، غصے یا ذہنی تناؤ کا شکار ہوتا ہے تو دماغ میں بعض کیمیکل خارج ہوتے ہیں جو جسم کو ہنگامی حالت میں لے جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں دل کی دھڑکن تیز ہو سکتی ہے، سانس لینے کا انداز بدل جاتا ہے اور جسمانی بے چینی بڑھ جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر انسان ان احساسات کو مسلسل ذہن میں دہراتا نہ رہے تو تقریباً 90 سیکنڈ کے اندر یہ جذباتی ردعمل خود بخود کم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

اسی تناظر میں ماہرین ایک تکنیک ’’سومیٹک بریتھنگ’’ یا جسمانی آگاہی کے ساتھ سانس لینے کی مشق تجویز کرتے ہیں، جس کا مقصد اعصابی نظام کو پرسکون کرنا اور جسم کو دباؤ کی کیفیت سے نکال کر بحالی کی حالت میں لانا ہے۔ ان کے مطابق سانس کا براہِ راست تعلق دماغ اور اعصابی نظام سے ہوتا ہے، اس لیے سانس لینے کے انداز میں معمولی تبدیلی بھی ذہنی کیفیت پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔

اس مشق کے پہلے مرحلے میں تمام سرگرمیاں روک کر سیدھا بیٹھا جاتا ہے اور تقریباً 30 سیکنڈ تک ناک سے گہری سانس لے کر منہ سے آہستہ آہستہ خارج کی جاتی ہے۔ اس کے بعد آنکھیں بند کرکے جسم پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے اور یہ محسوس کیا جاتا ہے کہ جسم کے کس حصے میں تناؤ یا جکڑن موجود ہے۔ اگلے 30 سیکنڈ اسی احساس کو سمجھنے اور جسم کو ڈھیلا چھوڑنے پر صرف کیے جاتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس کے بعد چند لمحوں کے لیے اپنی موجودہ کیفیت کو الفاظ میں بیان کرنا مفید ہوتا ہے، مثلاً ’’میں اس وقت تھکا ہوا ہوں‘‘ یا ’’میں دباؤ محسوس کر رہا ہوں‘‘۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جذبات کو نام دینے سے دماغ کا وہ حصہ نسبتاً پرسکون ہو جاتا ہے جو اضطراب اور خوف سے متعلق ردعمل پیدا کرتا ہے۔

مشق کے آخری مرحلے میں کندھوں کو ہلکا سا حرکت دی جاتی ہے، چہرے پر ہلکی مسکراہٹ لائی جاتی ہے اور خود سے یہ عزم کیا جاتا ہے کہ اب سکون کے ساتھ دوبارہ کام شروع کیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق یہ مختصر عمل جسم کے اس اعصابی نظام کو متحرک کرتا ہے جو دل کی دھڑکن کو متوازن رکھنے اور تناؤ کے ہارمونز کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تکنیک کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے لیے کام چھوڑ کر کہیں جانے یا طویل مراقبہ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ صرف 90 سیکنڈ کا یہ وقفہ ذہنی تازگی بحال کرنے، توجہ بہتر بنانے اور کام کی کارکردگی میں بہتری لانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

صحت کے ماہرین یہ بھی یاد دلاتے ہیں کہ ذہنی تھکن سے بچاؤ کے لیے صرف سانس کی مشق کافی نہیں۔ مناسب نیند، متوازن غذا، وافر پانی پینا، وقفے وقفے سے جسمانی حرکت کرنا، کیفین کا کم استعمال اور قدرتی روشنی میں کچھ وقت گزارنا بھی ذہنی اور جسمانی صحت برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ ان کے مطابق اگر تھکن، بے چینی یا ذہنی دباؤ مسلسل برقرار رہے تو ماہرِ صحت سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔

Load Next Story